جماعت اہل حدیث کی گمشدہ سلسلہ سند آخر کا ر مل ہی گئی

زیادہ دیکھی جانے والی

Monday, 21 December 2015

Qurran Bamuqabla Ghair Muqallideen


پی ڈی ایف فائل ڈاؤنلوڈ کرنے کیلئے  لنک میں جا کر پی ڈی ایف پر کلک کریں
https://archive.org/details/QurranBamuqablaGhairMuqallideen

قرآن بمقابلہ غیرمقلدین
بسم اللہ الرحمن الرحیم

 (آیت نمبر 1)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (النساء59 )
اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی ، اطاعت کرو اللہ کے رسول کی اور اولی الامر کی جو تم میں سے ہوں پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو لوٹاؤ اللہ کی طرح اور اس کے رسول کی طرف اگر تم یقین رکھتے ہو اللہ پر اور یوم قیامت پر یہ اچھی بات ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام۔
ہم شروع سے اس آیت کو دیکھتے ہیں
اس آیت میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو تین اطاعتوں کو ماننے کا حکم دیا ہے۔ اللہ کی اطاعت اس کے رسول کی اطاعت اور اولی الامر کی اطاعت
اولی الامر کا لفظی ترجمہ ہوتا ہے حاکم
اب ہمیں دیکھنا ہے کہ حاکم کون ہیں؟
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59] قَالَ: «أُولِي الْفِقْهِ وَالْخَيْرِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَهُ شَاهِدٌ، وَتَفْسِيرُ الصَّحَابِيِّ عِنْدَهُمَا مُسْنَدٌ»
[التعليق - من تلخيص الذهبي] 422 - هذا صحيح وله شاهد
حضرت جابر بن عبد اللہؓ {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد : «أُولِي الْفِقْهِ وَالْخَيْرِ» فقہ والے یعنی فقہاء کرام ہیں۔ (محدث امام حاکم فرماتے ہیں) یہ حدیث صحیح ہے اور تفسیر صحابی مسند (یعنی نبی کا فرمان ) ہوتی ہے۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں روایت صحیح ہے۔
(الكتاب: المستدرك على الصحيحين ج 1 ص 211)
اس صحیح حدیث سے معلوم ہو گیا کہ حاکم فقہاء کرام ہیں۔
اور یہ بھی کہ صحابی کی تفسیر نبی کا فرمان ہوتی ہے یہ محدثین کا قاعدہ ہے۔
اب یہ ہماری بات نہیں نہ کسی اور کی بلکہ اللہ کے پاک پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ کا فرمان ہے کہ اس سے مراد فقہاء ہیں اور محمد رسول اللہ سے زیادہ صحیح بات اور کس کی ہو سکتی ہے؟
لہذا اس آیت کریمہ میں اللہ نے ہمیں تین اطاعتوں کا حکم دیا ہے۔ 

اللہ کی اطاعت
اللہ کے رسول کی اطاعت
فقہاء کرام کی اطاعت

الحمدللہ ہم اللہ کے اس حکم کو تسلیم کرتے ہیں جبکہ ہمارے مقابل اپنے آپ کو اہل حدیث کہنے والے کیا اس آیت کو مانتے ہیں ؟ نہیں بلکہ اللہ کی قسم اس آیت سے سرے سے منکر ہیں وہ بلکل ماننے کو تیار نہیں کہ اللہ نے کہیں اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے ، اولی الامر سے مراد فقہا ہیں ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ صرف حیلے اور بہانے ہیں ان کے پاس اس کا انکار کرنے کے۔
اور وہ اس آیت کا اگلی آیت پڑھ کر انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ جب جگڑا ہو تو اللہ رسول کی طرف رجوع کرو لہذا ہم ڈائریکٹ اللہ رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں فقہاء کی اطاعت کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔ یہ بات ان کی اللہ کے فرمان کے ساتھ انتہائی درجے کی بدیانتی ہے۔
کیونکہ اللہ تعالٰی نے پہلے فرمایا ہے ان اطاعتوں کو ماننا ہے اور ”اگر“ جھگڑا ہو تب رجوع کیا جائے گا۔
مثال کے طور یوں کہا جائے کہ ”اگر“ وضو کیلئے پانی نہ ملے تب تیمم کرنا ہے پانی کی موجودگی میں تیمم نہیں ہوگا۔
اب ہم آتے ہیں دوسری بات پر کہ فقہاء کرام میں اختلاف ہو گیا اب ہم یعنی عوام کیا ڈائریکٹ اللہ رسول کی طرف رجوع کریں یعنی فقہاء میں اب اختلاف ہو گیا تو ہم خود قرآن حدیث کی طرف جا کر خود اس مسئلے کا حل نکال لیں۔
اول تو یہ بات زہن میں رکھی جائے کہ فقہاء کرام میں اختلاف کوئی اپنے ذاتی جگڑوں کی بنا پر نہیں ہوتے نہ زمین جائیداد کی بنا پر ہوتے ہیں بلکہ فہم پر ہوتے ہیں ان کا اجتہادی اختلاف ہوتا ہے ۔ اور اگر عام بندے کو بھی یہ حکم ہو کہ فقہاء کے اجتادی اختلافات کی بنا پر تمہیں قرآن حدیث کی طرف رجوع کرکے خود مسئلہ اخذ کرنا ہے تو عام آدمی تو فقیہ ہے ہی نہیں وہ تو یقیناً غلط ہی مسئلہ اخذ کرے گا اور جب خود فقہاء جو کہ دین کے ماہر ہیں ان میں اختلاف ہو گیا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عام آدمی اٹھ کر صحیح مسئلہ اخذ کر لے گا جو فقہاء نہ کر سکے تھے۔
اب ہم ان غیرمقلدوں کی بات پر ایک نظر ڈالتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ فقہاء کرام میں اختلاف ہوا ہم نے اللہ رسول کی طرف رجوع کر لیا۔
اور رجوع کیسے کیا یہ ہم نے اپنی کتاب ” کیا فرقہ اہل حدیث نے ائمہ اربعہ کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف رجوع کیا ہے“ ۔ (لنک : http://goo.gl/IEfRmi) میں درجنوں مسائل اور عقائد نقل کیئے ہیں جن میں فرقہ اہل حدیث کے بڑے بڑے علماء کا آپس میں ائمہ اربعہ فقہاء کرام سے بھی زیادہ اختلاف ہے فقہاء میں تو صرف اجتہادی تھا لیکن ان کا آپس میں عقائد میں بھی اختلاف ہے اور وہ سب کے سب یہی کہا کرتے تھے کہ ہم نے اللہ رسول کی طرف رجوع کیا ہے۔ اور ہر ایک ان میں یہی کہتا تھا کہ میری بات قرآن حدیث کے عین مطابق ہے۔
اب ان کے متعلق تو ہمیں معلوم ہو چکا کہ یہ علماء اس دعوی میں نہیں چل پائے اور عقائد میں اختلاف کرکے گمراہ ہوئے ہیں۔ کیا اب ہم بھی اسی طرح کریں کہ جو علماء فرقہ اہل حدیث نے کیا کہ فقہاء کو اجتہادی اختلاف کی بنا پر چھوڑ کر خود ذاتی تحقیق کرکے اسے قرآن حدیث کے عین مطابق قرار دے دیں یا اللہ تعالٰی نے ہمارے لئے کوئی اور راستہ بھی رکھا ہے۔
اب اگر یہ (رجوع والی) بات یوں بھی نہیں تو پھر کیسے اللہ کے اس فرمان کا آخر کچھ تو مطلب ہے۔
ہمیں اللہ کے اس فرمان کو سمجھنے کیلئے قرآن پاک کی دوسری آیات پر بھی نظر ڈالنی پڑے گی
چنانچہ اللہ تعالٰی قران کریم میں فرماتے ہیں

(آیت نمبر 2)
وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا (النساء83) 
ترجمہ:
اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اسکو مشہور کر دیتے ہیں اور اگر یوں کرلیتے کہ اسکو ( وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ ) رجوع کرتے رسول تک اور اپنے فقہاء تک تو استنباط کرتے ان میں جو استنباط کرنے والے ہیں۔
اللہ اکبر ! اللہ تعالٰی نے خود ہمیں راستہ بتایا ہے کہ فقہاء کرام کی طرف رجوع کرنے کا چارہ بھی موجود ہے۔
اور اللہ کے قران کی یہ دوسری آیت ہے جس کا یہ فرقہ سرے سے ہی انکار کرتا ہے۔ بلکل اس کو ماننے کو تیار ہی نہیں۔ کیونکہ وہ دین میں دین کے ماہرین کی پابندی نہیں بلکہ آزادی چاہتے ہیں جو کہ غیر اجتہادی مسائل میں اختلافات کی سب سے بڑی وجہ ہے ،اور گمراہی کا ذریعہ ہے۔
اور ہم یہاں پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ خود اجتہادی کی ہوا آخر کہاں سے چلی ۔
بریصغیر میں انگریز کا مقصد کیا تھا
چنانچے لارڈ میکالے جو انگریزوں کا اس وقت بڑا تھا اس نے کہا تھا کہ
”میں نے پورے بریصغیر کا سفر کیا ہے اور میں اس نتیجہ پہ پہنچا ہوں کہ ہم تب تک بریصغیر پاک و ہند کو فتح نہیں کر پائیں گے جب تک ہم یہاں کے لوگوں کو انکے کلچر، انکے اجداد کے کارناموں اور انکی تاریخ سے دور نہ کر دیں اور اس سب کے لئے ہمیں انکا تعلیمی نظام بدلنا ہو گا اور ان سب کویہ باور کروانا ہو گا کہ یہ لوگ کمتر ہیں اور ہم بر تر“۔
(لارڈ میکالے ۔ 2 فروری 1825)
اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا یہ فرقہ اہلحدیث وہی کام نہیں کر رہا جو انگریزؤں کا نکالا فلسفہ تھا؟
اب ہم ان کے گھر کی وزنی شہادت ان کے اپنے عالم جسے یہ لوگ وکیل اہلحدیث کہتے ہیں اس کا اعتراف حق نقل کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں
”اے حضرت یہ مذہب سے آزادی اور خود سری و خود اجتہادی کی تیز ہوا یورپ سے چلی ہے اور ہندستان کے شہر و بستی کوچہ و گلی میں پھیل گئی ہے“۔ (محمد حسین بٹالوی اشاعت السنہ ص 255)
اس موضوع کے متعلق تفصیل چاہئے ہو تو تجلیات صفدر جلد 5 ص 533 پر موجود تفصلی مضمون ملاحظہ کیجئے۔
بہرحال اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔
ہمارے سوال وہیں پر ہے کہ آخر پہلے آیت میں بھی رجوع کی بات کی گئی ہے وہ کس کو کہا گیا ہے۔ (یہ اگے بتائیں گے ان شاء اللہ)
ہم نے تحقیقی جواب دلائل کی روشنی میں تو اوپر لکھ دیا لیکن اس فرقہ اہلحدیث جو اپنے آپ کو سلفی بھی کہتے ہیں ان کی تسلی کیلئے ہم علماء سلف سے بھی نقل کر دیتے ہیں اگر ان کو ماننا ہے مانیں نہیں ماننا نہ مانیں ہمیں اس سے کوئی نقصان نہیں نہ ہمارے پاس ضد کا کوئی اعلاج ہے یہاں تو نہیں لیکن آخرت میں اس کا ضرور اعلاج ہو گا۔
ہم اللہ کے اس حکم کو مانتے ہیں اگر اللہ کے قرآن میں اس کا حکم نہ ملتا اور دلائل شرعیہ میں بھی ہمیں اس بات کا حکم نہ ملتا تو ہم نہ مانتے نہ ماننے کا کہتے لیکن اللہ نے جب حکم دے دیا تو ماننا پڑے گا۔
ابو بکر جصاصؒ (المتوفٰی 370ھ) فرماتے ہیں:
وقَوْله تَعَالَى عَقِيبَ ذَلِكَ: {فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ} يَدُلُّ عَلَى أَنَّ أُولِي الْأَمْرِ هُمْ الْفُقَهَاءُ; لِأَنَّهُ أَمَرَ سَائِرَ النَّاسِ بِطَاعَتِهِمْ ثُمَّ قَالَ: {فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ} , فَأَمَرَ أُولِي الْأَمْرِ بِرَدِّ الْمُتَنَازَعِ فِيهِ إلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
”اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دینے کے فوراً بعد اللہ تعالٰی کا یہ فرمانا کہ اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو تو اسے اللہ رسول کی طرف لوٹاؤ اس بات کی دلیل ہے کہ اولی الامر سے مراد فقہاء ہیں کیونکہ اللہ تعالٰی نے تمام لوگوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے پھر فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فرما کر ” اولی الامر“ کو حکم دیا ہے کہ جس معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ہو تو اسے اللہ کی کتاب اور نبی کی سنت کی طرف لوٹا دیں“۔
(الكتاب: أحكام القرآن ج 2 ص 264 الناشر: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
مزید یہی بات فَإِن تنازعتم کا خطاب ہر عام بندے کو نہیں بلکہ دین کے ماہرین کو ہے درجہ ذیل مفسرین نے فرمایا ہے۔
1
حضرت ابو العالیه ؒ (المتوفیٰ 90) (جو کہ حضرت علیؓ، ابن مسعوؓ، ابن عباسؓ ، ابن عمرؓ ابو ہریرہؓ، انس بن مالکؓ اور حضرت عائشہؓ وغیرہ کے شاگررد ہیں۔ (تہذیب الکمال)
حدثني المثنى قال، حدثنا إسحاق قال، حدثنا ابن أبي جعفر، عن أبيه، عن الربيع، عن أبي العالية في قوله:"وأولي الأمر منكم"، قال: هم أهل العلم، ألا ترى أنه يقول: (وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الأمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ) [سورة النساء: 83]
(تفسیر طبری ج 8 ص 501)

2
امام مجاہدؒ (المتوفیٰ 104ھ)
وَأخرج سعيد بن مَنْصُور وَعبد بن حميد وَابْن جرير وَابْن الْمُنْذر وَابْن أبي حَاتِم عَن مُجَاهِد فيقوله {فَإِن تنازعتم فِي شَيْء} قَالَ: فَإِن تنَازع الْعلمَاء {فَردُّوهُ إِلَى الله وَالرَّسُول} قَالَ: يَقُول: فَردُّوهُ إِلَى كتاب الله وَسنة رَسُوله
(الدر المنثور ج 2 ص 579)

3
امام ابو الحسن ماتریدیؒ (المتوفیٰ 333ھ)
هذه الآية والتي تليها تدل على أن أولي الأمر هم الفقهاء، وهو قوله - تعالى -: (فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ)، والتنازع يكون بين العلماء
(تفسير ماتريدي ج 3 ص 228)

4
امام قرطبیؒ (المتوفٰی 671ھ)
قَوْلُهُ تَعَالَى: (فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ) . فَأَمَرَ تَعَالَى بِرَدِّ الْمُتَنَازَعِ فِيهِ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ لِغَيْرِ الْعُلَمَاءِ مَعْرِفَةَ كَيْفِيَّةِ الرَّدِّ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، وَيَدُلُّ هَذَا عَلَى صِحَّةِ كَوْنِ سُؤَالِ الْعُلَمَاءِ وَاجِبًا، وَامْتِثَالِ فَتْوَاهُمْ
لَازِمًا.
(تفسير القرطبي ج 5 ص 260)
ان سب سے یہ معلوم ہو گیا کہ تنازع عوام الناس میں نہیں بلکہ اہل علم میں ہو گا جو کہ فقہاء ہوں عام علماء میں بھی نہیں کیونکہ ہر عالم اجتہاد کا اہل نہیں ہوتا ہر عالم فقیہ بھی نہیں ہوتا۔
یاد رہے آج کل کے اہلسنت علماء ، مفتیان کرام ، اور فقہاء خود ائمہ اربعہ کی طرح مسائل میں استنباط نہیں کرتے بلکہ وہ ان کو اپنے سے زیادہ ماہر جانتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں اور انہیں اپنا امام جانتے ہیں انہی کے مسائل اگے نقل کرتے ہیں اور اگر کوئی مسئلہ نہ ملے تو انہی کے قواعد اور اصولوں کی روشنی میں مسئلہ نکال لیتے ہیں۔
جس کی طرف رجوع کرنا کا اللہ نے کہا ہے وہ فقہاء ہیں۔ ان کے بیچ اگر اختلاف ہوگا تو وہ کتاب و سنت کی تہہ سے صحیح مسئلہ نکالنے کی حتی الامکان کوشش کریں گے۔ ہمارا کام ہے ان کی رہنمائی میں کتاب و سنت پر عمل کرنا ان کے بغیر صرف گمراہی ہی ہے اور آج ہمارے پاس درجنوں مثالیں موجود ہیں جس میں ہم نے ثابت کیا ہے کہ فرقہ اہل حدیث کے علماء نے نا اہل ہونے کے باجود فقہاء کو چھوڑ کر کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کی تو ان کے عقیدے بھی جدا جدا نکلے۔ اس لئے ان کا طریقہ بلکل غلط ہے اور گمراہی پر مبنی ہے۔
ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے اگر عوام الناس میں کسی مسئلے میں اختلاف ہو جائے تو وہ فقہاء ہی کے پاس جائیں گے اور فقہاء کتاب و سنت کی طرف رجوع کرکے اس کا حل نکالیں گے اور جن میں اختلاف ہوا ان کا کام ہے کہ وہ اس کوبغیر چوں چراں کے ماں لیں۔
اب غیرمقلدین حضرات یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے یہ فرمایا ہے کہ جب غیر اولی الامر کا اولی الامر کے ساتھ اختلاف ہو تو غیراولی الامر ، اولی الامر کو چھوڑ دے حالانکہ یہ بات صحیح نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالٰی غیر اولی الامر غیرمجتہد کو اس بات کی اجازت دیں کہ وہ اولی الامر سے اختلاف رکھے۔
آپ
نے بھی اولی الامر( جو کہ اجتہاد کا اہل ہے) کے ساتھ جھگڑا کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ
(مسلم ج3 حدیث :274)
ایک اشکال کا جواب کہ اگر فقہاء میں اجتہادی اختلاف ہو جاتا ہے تو کیا ان میں سے کوئی نہ کوئی گنہگار ہو گا یا نہیں ؟
الجواب
ان میں سے کوئی بھی گنہگار نہیں بلکہ اللہ کے نبی کی حدیث ہے کہ اگر مسئلہ خطا پر بھی ہوا تب بھی اجر ہے۔
عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ 
:”جب حاکم کسی بات کا فیصلہ کرے اور اس میں اجتہاد سے کام لے اور صحیح ہو تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور اگر حکم دے اور اس میں اجتہاد سے کام لے اور غلط ہو تو اس کو ایک اجر ملے گا“۔
(صحیح بخاری ج
۳ح؛ ۲۲۵۲)
ہاں پہلے حاکم مجتہد سے اختلاف رکھنے والا اگر اس جیسا مجتہد ہو تو اس کو تو اس سے اجتہادی اختلاف رکھنے سے کسی نے نہیں روکا اور اس صورت میں پہلے مجتہد کی بھی پیروی کی جاسکتی ہے جبکہ دوسرے مجتہد نے صرف اس جیسا اجتہاد سے ہی کام لیا ہے اور پہلے والے کو باطل نہیں قرار دیا۔
جب کہ اس کے مقابلے میں غیر مجتہد کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اجتہاد کرتا پھرے اور اپنے سے بڑے مجتہدین کے مسائل کو غلط اور اپنے کو برحق قرار دیتا رہے یہ صرف احمقانہ حرکت ہے جو کہ سب جانتے ہیں کون کرتے ہیں۔
ایک ڈھکوسلہ جو کہ عام طور پر یا جاتا ہے کہ کیا یہی چار ائمہ ہی اولی الامر ہیں یا اور بھی ہیں کیا صحابہ اولی الامر نہیں تھے ۔ کن کا علم زیادہ تھا صحابہ کا یا ان کا وغیرہ وغیرہ۔
الجواب
حقیقت میں فرقہ اہل حدیث کی بنیاد ہی ڈھکوسلوں پر کھڑی ہے۔
اس ڈھکوسلے کا جواب ہم خود دینے کی بجائے آج سے 800 سال پہلے کے اپنے محدث سے دے دیتے ہیں۔
محدث کبیر شارح صحیح مسلم علامہ نوويؒ (المتوفى: 676ھ) فرماتے ہیں:
وليس له التذهب بِمَذْهَبِ أَحَدٍ مِنْ أَئِمَّةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَغَيْرِهِمْ مِنْ الْأَوَّلِينَ وَإِنْ كَانُوا أَعْلَمَ وأعلا دَرَجَةٍ مِمَّنْ بَعْدَهُمْ لِأَنَّهُمْ لَمْ يَتَفَرَّغُوا لِتَدْوِينِ الْعِلْمِ وَضَبْطِ أُصُولِهِ وَفُرُوعِهِ فَلَيْسَ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ مَذْهَبٌ مُهَذَّبٌ مُحَرَّرٌ مُقَرَّرٌ وَإِنَّمَا قَامَ بِذَلِكَ مَنْ جَاءَ بَعْدَهُمْ مِنْ الْأَئِمَّةِ النَّاحِلِينَ لِمَذَاهِبِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ الْقَائِمِينَ بِتَمْهِيدِ أَحْكَامِ الْوَقَائِعِ قَبْلَ وُقُوعِهَا النَّاهِضِينَ بِإِيضَاحِ أُصُولِهَا وَفُرُوعِهَا كَمَالِكٍ وَأَبِي حَنِيفَةَ وَغَيْرِهِمَا.
[ المجموع شرح المهذب (ص/55)]

”اکابر ین صحابہ وغیرہ اگر چہ بعد والوں سے علم و عمل میں بہت آگے ہیں لیکن پھر بھی کسی کیلئے جائز نہیں کہ صحابہ کے مذہب کو اپنائے ، کیونکہ صحابہ کرام کو اتنا موقع نہیں ملا کہ وہ اپنے مذہب کو مدون کرتے اور اس کے اصول و فروع کو محفوظ کرتے، اسی وجہ سے صحابہ میں سے کسی بھی صحابی کا مذہب مدون و منقح نہیں ، ہاں بعد میں آنے والے آئمہ امام مالکؒ، اما م ابو حنیفہؒ وغیرہ نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور باقاعدہ مذاہب مدون کرکے ان کے اصول و فروع کو محفوظ کیا اور مسائل کے وقوع سے پہلے ان کا حل تلاش کیا“۔
یہ اس اشکال کا جواب کہ ایک ہی امام کی پیروی کیوں ضروری ہے سب کی کیوں نہیں؟
الجواب
یہ ممکن ہی نہیں ایک وقت میں دو اختلافی مسائل پر ایک ساتھ عمل کیا جائے
یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ایک ہی امام کی اقتداء میں نماز کیوں ضروری ہے ایک رکعات ایک امام کے پیچھے دوسری دوسرے کے پیچھے تیسری تیسرے کے پیچھے اور چوتھی چوتھے کے پیچھے کیوں نہ پڑھی جائے۔ کیا اس طرح نماز ہو جائے گی؟
اس کا جواب بھی ہم امام نوویؒ سے ہی نقل کر دیتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں
لوجاز اتباع ای مذہب شاء لافضی الی ان یلتقط رخص المذاہب متبعا ہواہ۔۔۔۔۔ فعلی ہذا یلزمہ ان یجتہد فی اختیار مذہب یقلدہ علی التعین ۔
ترجمہ:
اگر یہ جائز ہو کہ انسان جس فقہ کی چاہے پیروی کرے تو بات یہاں تک پہنچے گی کہ وہ اپنی نفسانی خواہش کے مطابق تمام مذاہب کی آسانیاں چنےگا۔ اس لیے ہرشخص پرلازم ہے کہ ایک معین مذہب چن لے اور اس کی تقلیدکرے۔
(المجموع شرح المہذب ج 1 ص 91)
ہمارا اب فرقہ اہل حدیث سے ایک ہی سوال ہے کہ ایمانداری سے بتائیں کہ کیا ہم اللہ کے قرآن کی یہ آیات مانیں یا نہ مانیں نہ مانیں تو آخر کیوں؟
خدارا جتنی بات ثابت ہے اتنی تو کم از کم مان لو
ہماری ساتھ ضد کوئی فائدہ نہ دی گی اگر کوئی چیز فائدہ دی گی تو وہ اللہ کا فرمان ہی دے گا۔

(آیت نمبر 3)
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (النحل43)
ترجمہ
اور اگر تم کو معلوم نہیں تو اہل ذکر سے پوچھو۔

اب دیکھتے ہیں فرقہ اہل حدیث قرآن پاک کی اس آیت کو کیسے جھٹلاتا ہے۔
فرقہ اہل حدیث کے شیخ الکل میاں نذیر حسین دہلوی صاحب لکھتے ہیں:
اس آیت میں اہل الذکر  سے ائمہ مراد نہیں بلکہ اہل ذکر سے مراد اہل کتاب ہیں اور اس آیت کے مخاطب کفار مکہ ہیں۔
(فتاویٰ نذیریہ ج 1 ص 163)

گویا کہ فرقہ اہل حدیث کے ہاں صرف کفار کیلئے یہ حکم خاص ہے کہ اگر ان کو معلوم نہیں تو وہ اہل ذکر سے پوچھا کریں مسلمان اس حکم سے بری ہیں ان کو اگر کسی چیز کا علم نہ ہو تو انہیں اہل علم سے اہل ذکر سے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

 ایسی بات ان کی انتہائی درجے کی حماقت ہے اور اصول سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔
جمہور اہل اسلام اس پر متفق ہیں کہ عموماتِ قرآن کو اسبابِ نزول  پر پابند کر دینا باطل ہے کیونکہ کوئی آیت بظاہر ایسی نہیں جس کا شان نزول خاص نہ ہو۔
مگر اس کا کوئی بھی قائل نہیں اس آیت کا حکم اسی خاص سبب کے ساتھ خاص ہے بلکہ تاقیامت اس کا حکم باقی رہے گا۔

چنانچہ غیرمقلدین کے  مجدد نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں:
اعتبار عموم لفظ کا ہوتا ہے خصوص کا اعتبار نہیں ہوتا چنانچہ یہ بات اصول میں طے ہو چکی ہے یعنی عام الفاظ کا اعتبار خاص واقعے کا نہیں۔
(بدور الاہلہ ص 209)
اور یہی بات درجہ ذیل فقہاء و محدثین نے کہی ہے۔
1۔ امام شافعیؒ (وفات 204ھ)
(کتاب الام ج 5 ص 241)

2۔ امام ابن کثیرؒ ( وفات 776ھ)
(تفسیر ابن کثیر ج2 ص 9)

3۔ امام ابن تیمیہؒ (جن کی دن رات غیرمقلد تسبیح پڑھتے ہیں) (وفات 728 ھ)
(الصارم المسلول ص 50)

4۔ ابن قیمؒ (وفات 751ھ)
(بدیع الفوائد ج 3 ص 161)

5۔ امام سیوطیؒ (وفات 911ھ)
(تفسیر الاتقان ج 1 ص 74)

6۔ ابن حجر عسقلانیؒ (وفات 852ھ)
(فتح الباری ج8 ص 143)

7۔غیرمقلدین کےقاضی شوکانیؒ صاحب بھی یہی بات لکھتے ہیں۔
(نیل الاوطار ج 2 ص 149)

لہذا ثابت ہوا کہ فرقہ اہل حدیث قرآن پاک کی اس آیت کو کفار کیلئے مخصوص کرکے اس آیت کا انکاری ہے۔ انہیں بھی  دیانتداری سے یہ بات قبول کر لینی چاہئے کہ وہ اس آیت کے منکر ہیں۔ اور ان کے علماء بھی منکر تھے اور آئندہ کیلئے توبہ کر لینی چاہئے۔
لطیفہ:
میاں نذیر حسین دہلوی صاحب کا اپنے اوپر جاہل اور بیوقوف ہونے کا فتویٰ
چنانچہ  اپنے (فتویٰ نذیریہ میں ج 2 ص 195) پر اسی طرح کی ایک آیت پر اسی قسم کا اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”اب جو کوئی کہے کہ یہ آیات کفار کے حق میں وارد ہیں تو بڑا جاہل اور بے وقوف ہے۔ کیونکہ اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ کہ خصوص محال“۔

مکمن ہے کہ فرقہ اہل حدیث کے یہ شیخ الکل صاحب پہلے اس بات سے جاہل ہوں اور بعد میں  ان کو معلوم ہو ئی ہو، لیکن پھر انہوں نے اپنی بات سے رجوع بھی نہیں کیا؟  یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عوام کو جان بوجھ کر گمراہ کیا ہو ؟ یا تو دونوں باتیں ہوئی ہیں یا پھر دونوں میں سے ایک بات ضروری ہوئی ہے۔

 اور اس سے آپ  یہ اندازہ لگا  لیں یہ ان کے بڑے بڑے شیخ الکل   کتنے بڑے قرآن حدیث سمجھنے والے  ہیں اور عوام کا ماشاء اللہ پوچھا ہی کیا  جسے اُن کے علماء نے بھیڑ بکریاں بنا کر رکھا ہوا ہے اور انہیں پتا بھی نہیں۔

اس آیت سے ”تقلید محمود“ کا اثبات کرنے والے ڈھیروں  علماء محدثین ہیں۔
جس سے یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ ان کے ہاں بھی  یہ آیت کفار کے ساتھ خاص نہیں جیسا کہ   فرقہ اہل حدیث کے ہاں ہے۔

1۔ امام احمد بن علی الرازیؒ (وفات 370ھ)
 ( اصول الفقہ ج 4 ص 281  )

2 ۔ امام قاضی ابی یعلیؒ (وفات 458ھ)
(العدۃ ص 1225)

3۔ امام ابی بکر محمد بن علی الخطیب بغدادیؒ (وفات 463ھ)
(کتاب الفقیہ والمتفقہ ج 2 ص 133)

4۔ امام ابو عمر ابن عبد البرؒ (وفات 463ھ)
(جامع البیان  العلم ص 299)

5۔ امام ابی اسحاق ابراہیم بن علیؒ (وفات 476ھ)
(التبصرۃ ص 406)
(اللماع فی اصول الفقہ  ص 125)

6۔ امام منصور بن محمدؒ (وفات 489ھ)
(قواطع الادلۃ  ج2 ص 343)

7۔ امام غزالی (وفات 505ھ)
(المستصفر ج 4 ص 133)

8۔ امام ابن قدامہؒ (وفات 620ھ)
(روضۃ الناظر ص 436-437)

9۔  امام علی بن محمد الآمدی (وفات 631ھ)
(الاحکام ج 4 ص 250)

10۔ امام القاضی ناصر الدین البیضاویؒ (وفات 675ھ)
(نہایۃ السول ص 404)

11۔ امام احمد بن حمدان الحیرانیؒ (وفات 695ھ)
(صفۃ الفتوی ص 53)

12۔ امام نجم الدین ابی الربیع سلیمان بن عبد القویؒ (وفات 716ھ)
(شرح مختصر الروضۃ ج الثالث ص 343)

13۔ امام جلال الدین ابی محمد الاسنویؒ (وفات 774ھ)
(التمہید فی تخیج الفروع علی الاصول ص 526)

14۔ امام ابی اسحاق ابراہیم بن موسی الشاطبیؒ (وفات 790ھ)
(الموافقات ج 5 ص 337)

15۔ امام زرکشی (وفات 794ھ)
(البحر المحیط ج 6 ص 282)

16۔ امام ابن ہمامؒ (وفات 861ھ)
(فتح القدیر ج 7 ص 239)

17۔ امام ابن امیر الحاج (وفات 879ھ)
(التقریر والتجیر ج 3 ص 438)

18۔ امام سیوطیؒ (وفات 911ھ)
(الاکلیل فی استنباط التنزیل  ص 163)

ان سب حوالاجات کے سکین یہاں ملاحظہ کیجئے۔
https://goo.gl/jJXHcN

ان سب کے باوجود یہ کہنا کہ یہ کفار کے  لئے مخصوص ہے مسلمانوں کیلئے نہیں تو پھر اللہ کے قرآن کی اس آیت کا انکار کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟

اور ان سب دلائل کو دیکھ کر ان لوگوں کو سلفی کہنے کا دل نہیں چاہتا ان لوگوں کو سلفی کہنا ایسا ہی ہے جیسے مرزا قادیانی ملعون کو مسیح یا عیسیٰؑ  کہنا۔

(آیت نمبر 4)
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
(التوبه122) 

ترجمہ
اور ایسے تو نہیں مسلمان کہ کوچ کریں سارے، سو کیوں نہ نکلا ہر فرقہ میں ان کا ایک حصہ تاکہ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ فقیہ بنے دین میں اور خبر پہنچائیں اپنی قوم کو جب وہ رجوع کریں ان کی طرف تاکہ وہ بچتے رہیں۔

آپ
کے ان صحابہ کی مادری زبان عربی تھی وہ قرآن و حدیث سن کر ہم سے بہت اچھا مطلب سمجھ جاتے تھے۔ اللہ تعالٰی ان عربی دان صحابہ سے فرما رہے ہیں کہ ہر قوم میں سے کم از کم ایک آدمی فقیہ بنے، معلوم ہوا کہ فقہ صرف ترجمہ جاننے کا نام نہیں، وہ ایک خاص گہرائی کا نام ہے، ہر عربی دان بھی فقیہ نہیں۔

جب تفقہ فی الدین کا حکم اللہ کا ہے اور اللہ نا اہل کو اہل علم کے پاس بھیج رہے ہیں تو صاف ظاہر ہے اللہ کو اہل علم پر اور فقیہ پر بھروسہ ہے۔
کیا فرقہ اہل حدیث کو بھی اِن پر بھروسہ ہے؟
یقیناّ نہیں! کیونکہ ان کے ہاں یہ ایک گمراہی ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک

کیا فرقہ اہلحدیث اس بات کو مانتا ہے کہ فقیہ بننا چاہئے؟

کیا فرقہ اہلحدیث اس بات کو مانتا ہے کہ فقیہ کی طرف رجوع کیا جائے ؟ یا فقیہ جب فقہ حاصل کرکے قوم کی طرف رجوع کرے اور قوم اس کی بات کو سنے؟

کیا فرقہ اہل حدیث اس بات کو مانتا ہے کہ فقہ خاص گہرئی ہے صرف ترجمہ قرآن اور ترجمہ حدیث دیکھ لینا کافی نہیں؟

اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر ہم کیسے کہیں کہ یہ لوگ قرآن حدیث ماننے والے ہیں؟

(آیت نمبر 5)
اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتے ہیں:
”اور اگر(والدین) تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تُو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کو تو جانتا بھی نہ ہو تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ نیکی سے پیش آ اور
 وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ
چل اس شخص کے رستے پر جو میری طرف رجوع رکھنے والا ہے“۔
(لقمان 15)

اللہ تعالٰی نے والدین کی بات کرکے فوراً یہ فرمایا کہ اس شخص کے راستے پر چلو جو میری طرف رجوع ہوا اس میں صرف والدین ہی منحصر نہیں بلکہ اللہ نے ایک اصول ایک قاعدہ دیا ہے کہ گمراہوں کے راستے پر نہیں بلکہ اس شخص کے راستے پر چلا جائے گا جو اُس کی طرف رجوع ہوا ہے۔
اور ایسا بھی نہیں کہ والدین اگر اللہ کی طرف رجوع نہیں ہوئے تو ہم ان کے پیچھے نہ چلیں اور کوئی دوسرا اللہ کی طرف رجوع ہوا ہے تو ہم یہ کہہ دیں کہ وہ ہمارے والدین میں شامل نہیں اسلئے اس کی راہ پر بھی نہیں چلیں گے ہاں اگر والدین میں شامل ہوتا تو ہم اس کی راہ پر چل پڑتے۔

فرقہ اہلحدیث کی جاہلانہ تاویل
کہتے ہیں چونکہ یہاں ”سبيل“ (راہ) کی بات ہو رہی ”کہ اس شخص کے راہ پر چلنا اور جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے“ اور اس کی راہ قرآن ہے لہذا ہم برائے راست قرآن پر چلتے ہیں بیچ میں اس بندے کی ضرورت نہیں وہ اپنا رجوع کرے ہم اپنا رجوع کرتے ہیں۔

اگر یہ بات یوں ہی ہوتی تو پھر اللہ کو یہ فرمانے کی کیا ضرورت تھی کے اس شخص کے راستے پر چلنا جو میری طرف رجوع ہوا ڈائریکٹ یہی کہہ دیتے کہ قرآن پر چلنا بیچ میں ”منیب“ کی بات کرکے یہ کیوں کہا کہ اس کے راستے پر چلنا؟

اسلئے کہ منیب ہی ہے جو کہ اللہ کی طرف صحیح سے رجوع کر سکتا ہے۔ ایک طرف منیب ہو اور دوسری طرف کوئی عام نا اہل شخص اب نااہل کہتا ہے کہ میں نے قرآن کی طرف رجوع کیا تو مسئلہ یوں نکلا دوسری طرف منیب ہے باشعور اور با علم شخص وہ کہتا ہے کہ میں نے قرآن کی طرف رجوع کیا تو یہ مسئلہ یوں نکلا۔

اب اللہ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ ہمیں اس شخص کے راستے پر چلنا ہے جو منیب ہے۔ ایسے شخص کے پیچھے نہیں جو کہ نا اہل ہے۔

ائمہ اربعہؒ منیب ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں غیرمقلد (لایجتہد ولا یقلد) یہ نا اہل ہیں۔ اور آج تک یہ لوگ خود اس بات کا تعین نہیں کر پائے کہ ان میں سے کوئی ایسا بھی تھا جس کے متعلق یہ لوگ کہہ سکیں کہ وہ سیدھے راستے پر تھا بلکہ یہ لوگ فخر سے کہتے ہیں کہ ان کے چوٹی کے علماء گمراہ تھے۔

ہمیں ان گمراہوں کا راستے نہیں اختیار کرنا جسے یہ اختیار کرکے خود گمراہ ہوئے ہیں بلکہ ائمہ اربعہؒ کا راستہ اختیار کرنا ہے تب ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے قرآن پر عمل کیا ہے۔

(آیت نمبر 6)
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
(النساء115)

ترجمہ
اور جو کوئی مخالفت کرے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب کہ کھل چکی اس پرسیدھی راہ اور چلے سب مسلمانوں کے راستہ کے خلاف تو ہم حوالہ کریں گے اس کو وہی طرف جو اس نے اختیار کی اور ڈالیں گے ہم اس کو دوزخ میں اور وہ بہت بری جگہ پہنچا۔

اس آیت میں اللہ تعالٰی نے امت مسلمہ کے اجماع کے خلاف چلنے والے کو جہنمی قرار دیا ہے نہ کہ اہل حدیث یا محمدی

فرقہ اہل حدیث کے ہاں اس آیت کی ضرورت نہیں وہ کہتے ہیں کہ خود تحقیق کی جائے جو مسئلہ جیسے نکلے اسی پر عمل کیا جائے اِس کی پروا نہ کی جائے کہ وہ سب مسلمانوں کے خلاف ہے یا نہیں۔

بعض غیرمقلد (لایجتہد ولایقلد) زبانی طور پر تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اجماع کو مانتے ہیں لیکن عملی طور پر بہت سے ثابت شدہ اجماعی مسائل کے منکر ہیں۔

مثال کے طور پر کتاب الاجماع جو کہ تیسری صدی ہجری میں لکھی گئی اس میں امت کے اجماعی مسائل ذکر ہیں ان میں اکھٹی تین طلاق کے واقع ہونے پر اجماع کا ذکر ہے دیکھئے
(ترجمہ کتاب الاجماع ص 91۔ 92 ۔ 93)
یاد رہے اس کا ترجمہ بھی کسی غیرمقلد عالم نے کیا ہے۔
اور یہ کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ نہیں اسلئے کہ اگر اکھٹی طلاق نہ مانی گئیں تو ایک فریق کے ہاں بیوی کا اس آدمی کے ساتھ رہنا زنا کہلائے گا اور اگر طلاق مان لی گئی تو دوسرے فریق ہے ہاں وہ عورت کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتی ہے اگر کرے گی تو وہ زنا ہو گا کیونکہ پہلے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح باقی ہے۔
اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ یہ کس قدر سنجیدہ مسئلہ ہے۔

علامہ سخاویؒ فرماتے ہیں:۔
ونحن نؤمن ونصدق بأنه - صلى الله عليه وسلم - حي يرزق في قبره وأن جسده الشريف لا تأكله الأرض، والإجماع على هذا
ہم یقین رکھتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں کہ نبی اپنی قبر میں زندہ ہیں آپ کو رزق دیا جاتا ہے اور آپ کے جسد شریف کو زمین نے نہیں کھایا اور اس پر اجماع ہے۔
(القول البدیع ص 172: دار الريان للتراث)

اب جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ قرآن حدیث کے خلاف اجماع ہے یا میں قرآن حدیث کے خلاف اجماع نہیں مانو گا تو وہ اللہ کے نبیؐ کے فرمان کا منکر ہے۔
کیونکہ نبی نے اپنی زبان سے فرما دیا کہ
«لَا يَجْمَعُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلَى الضَّلَالَةِ أَبَدًا»
اللہ میری امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔
(مستدرک الحاکم ج1 ص 199 سندہ صحیح الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت )
اب وہ شخص اس حدیث کے خلاف کہتا ہے کہ یہ قرآن حدیث کے خلاف جمع ہیں۔ اللہ نے انہیں قرآن حدیث کے خلاف جمع کر دیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بات نبی کی بات سے زیادہ معتبر ہے۔ نعوذباللہ

اب اگر کوئی غیرمقلد کہتا ہے کہ میں اجماع کو تو مانتا ہوں تو وہ یہ بتائے کہ کیسے پتا چلتا ہے کہ کسی مسئلہ پر اجماع ہے؟
کیونکہ یہ بہت سے اجماعی مسائل کا انکار اور ان سے جان چھڑانے کیلئے اللہ کے نبیؐ کی حدیث (کہ اللہ میری امت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرےگا۔سندصحیح) کے خلاف کہہ دے گا یہ اجماع قرآن حدیث کے خلاف ہے یعنی کہ یہ گمراہی پر جمع ہیں اللہ نے انہیں گمراہی پر جمع کر دیا ہے۔

فرقہ اہل حدیث زبان سے بے شک وقتی طور پر دعوی کرے کہ وہ اجماع مانتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اجماع کے منکر ہیں۔ اجماع کا انکار وہ حیلے اور بہانوں سے اور فرمائشی دلائل کا مطالبہ کرکے بھی کرتے ہیں۔
بہرحال انکے کے بعض علماء اس کی صراحت کر گے ہیں کہ ان کے ہاں اجماع حجت نہیں۔

فرقہ اہلحدیث کے ایک بڑے عالم عبد المنان نور پوری جنہوں نے خود اپنے آپ کو شیخ الحدیث کا لقب نہیں دیا بلکہ انہی کی اپنی عوام نے انہیں شیخ الحدیث قرار دیا ہے فرماتے ہیں:
اجماع صحابہ ؓ اور اجماع ائمہ مجتہدین کا دین میں حجت ہونا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔
(مکالمات نور پوری ص 85)
نعوذ باللہ من ذالک 

فرقہ اہلحدیث کے ایک اور
مفتی نور الحسن صاحب لکھتے ہیں
اجماع چیزی نیست
یعنی اجماع کی کوئی حیثیت نہیں ۔
(عرف الجادی ص 3)

اب خود انصاف کے ساتھ فیصلہ کر لیجئے کیا فرقہ اہل حدیث قرآن کی اس آیت کو مانتا ہے؟ اور ہم نے ان کی چوری پکڑ کر کچھ غلط کیا ؟

فرقہ اہل حدیث کو چااہئے کہ آئندہ کیلئے توبہ کریں اور اس آیت پر دل سے ایمان لے آنے کا عہد کر لیں اور اگر مانتے ہیں تو یہ بتائیں کہ اجماع کیسے ثابت ہو گا اس کے متعلق کوئی اصول متعین کریں (اپنا ذاتی نہیں) اور یہ بھی بتائیں کہ اگر آپ لوگ اجماع کو واقعی مانتے ہیں تو اجماعی مسائل کہاں سے لیتے ہیں؟

اور اگر اُس اصول سے یہ اجماعی مسائل بھی ثابت ہوتے ہوں تو اِنہیں بھی مان لیں ، ایسا نہ ہو کہ ایک طرف تو کوئی ایسا مسئلہ جس پر ہمارے بیچ اختلاف نہیں اسے لے لیں کہ یہ اجماعی مسئلہ ہے اور دوسری طرف اسی اصول سے جو اجماعی مسئلہ ثابت ہو رہا ہو اور اس میں ہمارا اور آپ کا اختلاف ہو تو اس سے جان چھڑانے کیلئے آپ کڑی شرطیں لگائیں جس سے باقی اجماعی مسائل بھی ثابت نہ ہو سکتے ہوں۔

(آیت نمبر 7)
وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّه (البقرۃ 115)
ترجمہ
مشرق اور مغرب اللہ کا ہے تم جس طرح رخ کرو وہاں ”وجه الله“ اللہ کا منہ ہے۔

فرقہ اہل حدیث کیلئے یہ آیت بھی سر درد سے کم نہیں نعوذباللہ
اگر وہ اس آیت میں ”وجه الله“ کا ترجمہ ذات باری تعالٰی کریں تب تو یقینی طور پر ان کا مسلک باطل ہو جاتا ہے اس میں کوئی شبے کی گنجائش ہی نہیں۔

اسلئے انہوں نے یہ ترجمہ بھی نہیں کرنا کیونکہ یہ ان کے مسلک کے خلاف ہے۔

اب یہاں پر فرقہ اہل حدیث کا دوغلہ پن بھی دیکھ
لیں

اسی قرآن کریم میں ایک اور آیت بھی موجود ہے جس میں ہے کہ

كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ
(القصص 88)
ترجمہ
وجه الله کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔

اسی آیت کا ترجمہ مولوی محمد جونا گڑھی صاحب جنہیں ان کا فرقہ امام العصر کہتا ہے وہ لکھتے ہیں:
” ہر چیز فنا ہے مگر اس کا منہ۔ اگر یہاں ”وجه“ منہ کی تاویل ذات سے نہ کی جائے تو پھر آیت کریمہ کا صاف صاف مطلب یہ ہو گا کہ اللہ تعالٰی کے ید ، قدم ساق (صفات) فنا اور زوال پذیر ہو جائیں گے ، صرف باری تعالٰی کا چہرہ ہی قائم و دائم رہے گا“۔
(تفسیر جونا گڑھی ، القصص تحت آیت 88)

پروفسیر بہاولدین صاحب نے بھی اس آیت کا ترجمہ یہ کیا ہے
” اللہ کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے“۔
(تاریخ اہل حدیث 232)

اگر یہی بات پہلی آیت کے ساتھ کہیں تو ان کیلئے موت سے کم نہیں ہوگی اس سے ثابت ہوا کہ یہ لوگ قرآن کی بعض آیات کو تو مانتے ہیں جو ان کے مسلک کے موافق ہوں اور بعض کو چھوڑ دیتے ہیں جو ان کے مسلک کے مخالف آئیں۔

اب اگر یہ لوگ وجه اللہ سے اللہ کا منہ ہی مراد لیں تو پھر کیا کہیں گے کہ اللہ کی باقی ذات تو اوپر ہے لیکن اس کا منہ ہر طرف ہے؟
کیونکہ ان کے ہاں ان صفات کا حقیقی لغوی اور عرفی معنی کا ہی اثبات کیا جائے گا۔
(ماہانہ محدث مارچ 2011 ص 11)

اور ظاہر سی بات ہے منہ حقیقت لغت اور عرف میں ذات کا جزء ہوتا ہے۔

(آیت نمبر 8)
هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ
(آل عمران7)

ترجمہ
وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب اس میں بعض آیتیں ہیں محکم (یعنی انکے معنیٰ واضح ہیں) وہ اصل ہیں کتاب کی اور دوسری ہیں متشابہ( یعنی جنکے معنیٰ معین نہیں) سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے اور مضبوط علم والے کہتےہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں اور سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے۔

اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ بعض آیات متشابہات میں سے ہیں اور ان کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
جبکہ فرقہ اہل حدیث نے اس مسئلے کا حل بھی نکال لیا وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کا مطلب لغت سے معلوم کریں گے۔
مثال کے طور پر
اللہ کی صفت ید جو کہ متشابہات میں سے ہے
خود فرقہ اہل حدیث کے امام العصر محب اللہ شاہ راشدی نے بھی اللہ کی ان صفات کو متشابہات میں سے کہا ہے ۔ (فتاویٰ راشدیہ ص 128)

اب اس صفت کے متعلق فرقہ اہل حدیث کے ایک اور عالم کہتے ہیں کہ اس کا لغوی حقیقی اور عرفی معنی اثبات کیا جائے گا۔
(ماہانہ محدث شمارہ 345 مارچ 2011 صفحہ 11)

گویا کہ فرقہ اہل حدیث صفات متشابہات کا معنی عرف اور لغت سے نکال گا۔

امام سیوطیؒ نے جب اللہ کی مراد کو اللہ کے سپرد کرنے کی بات کی تو ایک وکٹورین عالم نے انہیں گالیاں دینا شروع کر دیں۔

محدث امام جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں:
وَجُمْهُورُ أَهْلِ السُّنَّةِ مِنْهُمُ السَّلَفُ وَأَهْلُ الْحَدِيثِ عَلَى الْإِيمَانِ بِهَا وَتَفْوِيضِ مَعْنَاهَا الْمُرَادِ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَلَا نُفَسِّرُهَا مَعَ تَنْزِيهِنَا لَهُ عَنْ حَقِيقَتِهَا.
ترجمہ:
جمہور اہل سنت جن میں سلف اور اہلحدیث (محدثین) شامل ہیں ان کا مذہب (نصوص صفات پر) ایمان رکھنا ہے ساتھ اس کے کہ ان کے معنی مراد کو اللہ کی طرف سپرد کر دیا جائے اور ہم ان کی تفسیر نہیں کرتے جبکہ ان کے ظاہری معنی سے اللہ کو پاک قرار دیتے ہیں۔
(الإتقان في علوم القرآن ج 3 ص 14(

جبکہ فرقہ اہلحدیث کا دعوی ہے کہ نصوص صفات پر ایمان لانے کیلئے صفات متشابہات کے معنی مراد کا معلوم ہونا ضروری ہے۔

امام سیوطی ؒ کی اس عبارت پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک غیرمقلد عالم جو اپنے آپ کو سلفی کہتا ہے اور کوئی مدرسہ بھی چلاتا ہے لکھتا ہے:

هذا النص اولا صريح في التفويض المبدع المتقول علي السلف من جانب اهل الجهل والتجهيل والتعطيل وهم المبتدعة الخلف
وثانياً قوله : مع تنزيھنا لهو عن حقيقتها ، صارخ بالتعطيل صراخ ثكالي الجهمية
ترجمہ:
میں کہتا ہوں یہ عبارے پہلے تو اس تفویض (یعنی معنی کو اللہ کے سپرد کرنا) میں صریح ہے جو کہ جھوٹے طور پر سلف کی طرف منسوب کیا گیا ہے (نعوذ باللہ) کہ اہل جہل تجہیل اور اہل تعطیل کی طرف سے جو کہ متاخرین بدعتی ہیں دوسرا یہ کہ امام سیوطی کی یہ عبارت کہ ہم ان کے ظاہری حقیقی معنی سے اللہ کو پاک قرار دیتے ہیں واضح طور پر تعطیل فریاد کر رہی ہے ان جہمی عورتوں کی فریاد کی طرح جو بچوں سے محروم ہو گئی ہوں۔ (والعیاذ باللہ)
(عداء الماتریدية للقعيدة السلفية قوله 28)

اللہ نے فرمایا
وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ
اس میں متشابہات ہیں
پھر فرمایا
وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ 
اس کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا

ہم اللہ کی اس آیت پر ایمان لے آئے الحمدللہ اور اللہ کی مراد کو اس کے سپرد کر دیا اور اس کے معنی متعین نہیں کئے کہ کہیں کہ بس اللہ کی اس سے یہی مراد ہے اور کچھ نہیں۔

جبکہ فرقہ اہل حدیث نے کہا نہیں ہم اللہ کی مراد کو اللہ کے سپرد نہیں کریں گے بلکہ اس کا معنی لغت سے متعین کریں گے ۔
نعوذ باللہ من ذالک

(آیت نمبر 9)
هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ
(الحدید 3)
ترجمہ
وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن

رسول اللہ
اس آیت کی تفسیر فرماتے ہیں
"اللهم أنت الأول، فليس قبلك شيء، وأنت الآخر، فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، وأنت الباطن، فليس دونك شيء".
اے اللہ تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں ، تو ”آخر“ ہے تیرے بعد کوئی نہیں، تو ”ظاہر“ ہے تیسرے اوپر کچھ نہیں، تو ”باطن“ ہے تیرے نیچے کچھ نہیں۔
( صحیح مسلم ج4 ص 2084 الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

دون کا مطلب ”علاوہ“ بھی ہوتا ہے اور ”دون“ کا مطلب ”نیچے بھی ہوتا ہے۔
(المورد ص 557)
خاص طور پر یہاں تو یہ ”اوپر“ کے مقابلے میں آیا ہے۔ یعنی نہ اللہ سے ”پہلے“ کوئی نہ ”بعد“ نہ ”اوپر“ کوئی نہ ”نیچے“ کوئی۔ اور ویسے ”علاوہ“ کی بات تو پہلے ہو چکی کہ اللہ سے نہ ”پہلے“ کوئی نہ ”بعد“ کوئی۔

بہرحال ہم دونوں باتوں کا اقرار کرتے ہیں خود حدیث میں بھی لفظ ”دون“ نیچے کیلئے استعمال ہوا ہے۔

نبی کریم
کی حدیث ہے
وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدَ نَعْلَيْنِ فَإِنْ لَمْ تَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَمَا دُونَ الْكَعْبَيْنِ
”اور اگر تمہارے پاس جوتے نہ ہوں تو ٹخنوں کے نیچے تک موزے پہن لیا کرو“۔
(سنن نسائی ج 2 ح 587 : صحیح)

سلف سے تصریح
امام بيهقي رحمہ الله فرماتے ہیں کہ
وَاسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي نَفْيِ الْمَكَانِ عَنْهُ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ» . وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ". وَإِذَا لَمْ يَكُنْ فَوْقَهُ شَيْءٌ وَلَا دُونَهُ شَيْءٌ لَمْ يَكُنْ فِي مَكَانٍ.
ہمارے بعض اصحاب اللہ کو مکان سے پاک ثابت کرنے کیلئے نبی کی حدیث پیش کرتے ہیں کہ تو (اللہ) الظاہر مطلب کوئی چیز اسکے اوپر نہیں الباطن یعنی کوئی چیز اس کے نیچے نہیں اسلئے اللہ کے اوپر کچھ نہیں اور اسکے نیچے کچھ نہیں تو اللہ مکان سے پاک ہے۔“
(الأسماء والصفات للبيهقي ج
۲ ص۲۸۷)

اس سےمعلوم ہو گیا کہ اللہ کی ذات موجود بلامکان ، لامحدود اور نہ ختم ہونے والی ہےجس سے نہ اس کے اوپر کسی اور شے کا تصور کیا جاسکتا ہے نہ اس کے نیچے کسی شے کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ کہا جائے کہ یہاں سے اللہ کی ذات ختم ہو کر یہ چیز شروع ہوتی ہے۔اِس سے ان لوگوں کے عقیدے کی بھی نفی ہو گئی جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ صرف عرش پر ہے کیونکہ اگر کہا جائے کہ اللہ صرف عرش پر ہے تو پھر کہنا پڑے گا کہ اللہ کے اوپر تو کچھ نہیں لیکن نیچے عرش ہے۔

فرقہ اہلحدیث کا دعوی کہ اللہ کے اوپر تو کچھ نہیں مگر نیچے ہے۔
جیسا ان کے عقیدہ سے صریح طور پر واضح ہے کہ اللہ کی ذات کے نیچے عرش وغیرہ مخلوقات کے قائل ہیں اور اس کے بھی قائل ہیں نیچے کی طرف سے نعوذ باللہ اللہ کی ذات ختم ہوتی ہے پھر عرش وغیرہ مخلوقات شروع ہوتی ہیں۔
اور یہ عقیدہ صریح طور پر قرآن حدیث کے خلاف ہے۔

(آیت نمبر 10)
اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ   ۙ فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ   ۙ لَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ  ۭ تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ    ؀
بیشک یہ قرآن بڑی شان والا ہےلکھا ہوا ہے  ایک پوشیدہ کتاب میں  جسےاِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ    بغیر پاکوں کے اور کوئی نہیں چھوتا  اتارا ہوا ہے پروردگار عالم کی طرف سے۔
(الواقعہ 77-78-79)

اس بات پر ہم   متفق ہیں کہ قرآن بغیر وضو کے پڑھا جاسکتا ہے اختلاف ہمارا غیرمقلدین کے ساتھ اس میں ہے کہ آخر بغیر وضو کے قرآن کو چھوا بھی جاسکتا ہے یا نہیں۔

بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ لکھا ہے کہ پاک سے مراد فرشتے ہیں اور یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہے۔

بہرحال جب فرشتے  پاک ہی اسے چھو سکتے ہیں تو انسان کیا بغیر طہارت کے اسے چھوتا پھرے؟، غیرمقلدین نے طہارت کی ذمہ داری فرشتوں  کے سپرد کردی ہے اور خود بغیر طہارت کے قرآن چھوتے اور چھونے کے  فتوے دیتے پھرتے ہیں اور  پھر کہتے ہیں ہم قَران حدیث مانتے ہیں قَران حدیث

 طہارت کیسے حاصل کی جاتی ہے؟
امام محمد بن إبراهيم بن المنذر النيسابوري (المتوفى : 319هـ) فرماتے ہیں:
أجمع أهل العلم على أن الصلاة لا تجزئ بطهارة

ترجمہ:
”اجماع ہے کہ نماز بغیر طہارت کے درست نہیں“۔

(الكتاب : الإجماع ص 33 الناشر : دار المسلم للنشر والتوزيع)

ظاہر سی بات ہے طہارت  صرف ہاتھ دھو لینے کا نام تو نہیں جسے دھو کر بندہ نماز پڑھ لے اور نماز ہو جائے۔ طہارت وضوء یا  غسل کے ذریعے ہی حاصل کی جائے گی۔

ڈاکٹر سعید بن علی القحطانی کی کتاب ”ہم طہارت کیسے حاصل کریں“ جس کا اردو ترجمہ بھی غالبا کسی غیرمقلد عالم نے ہی کیا ہے اور کتاب کو غیرمقلدین نے اپنے معتبر ویب سائٹ  پر بھی لگایا ہوا ہے اس میں  بھی لکھا ہے کہ:

”طہارت پانی کے ذریعہ وضوء اور غسل کرکے حاصل کی جاتی ہے اور پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم سے حاصل کی جاتی ہے“۔
(ہم طھارت کیسے حاصل کریں ص 19)

اس کے برعکس غیرمقلدین  کا موقف جو ان کی فقہ کی کتاب جسے انہوں نے نبی کی طرف منسوب کیا ہوا ہے اور جس کے متعلق یہ کہتے ہیں فی جملہ نہایت مفید کتاب ہے ۔
(دیکھئے فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ ج1 ص 493)
اس میں لکھا ہے کہ
قرآن کو چھونے کیلئے طہارت شرط نہیں۔
(نزل الابرار فی فقہ نبی المختار ج1 ص 9)
اسکے علاوہ
 نواب نور الحسن صاحب غیرمقلد فرماتے ہیں
بے وضو شخص کیلئے قران کو چھونا جائز ہے۔ (عرف الجادی ص 15)

اسی فتوے پر آج کے تمام غیرمقلدین عمل کرتے ہیں اور یہی فتوی لوگوں کو دیتے پھرتے ہیں اور ان کی جاہل عوام  اپنے علماء سے  یہ فتوی لے کر اسے قرآن حدیث سمجھ کر آگے  جا کر تحقیق تحقیق کے نعرے  لگاتی پھرتی ہے۔

(آیت نمبر 11)
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الآعراف204)
ترجمہ
اور جب قرآن پڑھا جاتا جائے تو اسے غور سے سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

فرقہ اہل حدیث اس آیت کا مطلقاً منکر ہے وہ یہ کہتا ہے کہ یہ حکم کفار کیلئے ہے ہمارے لئے نہیں یعنی کفار کو اللہ یہ حکم دے رہے ہیں کہ اے کافرو جب قرآن پڑھا جائے تو کان لگا کر سنا کرو اور چپ رہا کرو تاکہ تم پر رحم ہو اور اگلی آیت
وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ  (الآعراف 205)
اور اپنے رب کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کیے بغیر ! اور ان لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

یعنی کہ  ان کے نزدیک یہ  حکم کفار کیلئے ہے کہ قرآن جب پڑھا جائے تو خاموش رہیں اور اللہ یہ کافروں کو کہہ رہا ہے کہ ان پر رحم ہو گا اور اللہ یہ کافروں کو کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کریں ۔  العیاذ باللہ
 فرقہ اہل حدیث نہ صرف عوام بلکہ ان کے سارے علماء بھی معذرت کے ساتھ لیکن کہنا پڑھ رہا ہے کہ اس قدر احمق ہیں کہ  آج تک وہ یہی سمجھتے آ رہے ہیں کہ یہ حکم کفار کیلئے ہے کفار کے لئے ہیں مسلمانوں کیلئے نہیں۔ جب قرآن کی قرات ہو رہی ہو تو مسلمانوں کو کان لگا کر سننے کی ضرورت نہیں نہ چپ رہنے کی  ضرورت ہے۔ 

ذرہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کیجئے کیا اللہ کافروں کو یہ کہہ رہا ہے کہ جب قرآن پڑھا  جائے تو کان لگا کر سنا کرو اور چپ رہا کرو تاکہ تم پر رحم ہو؟ کیا اللہ  کافروں کو کہہ رہا ہے کہ صبح شام اللہ کا ذکر کیا کرو؟

اگر  کوئی غیرمقلد اب تک یہی مانتا آیا تھا کہ  اللہ نے یہ حکم کفار کو دیا ہے تو اُسے چاہئے کہ فوراً توبہ کرے اور اپنے بقیہ  غیرمقلد دوستوں کو بھی توبہ کروائے جنہوں نے اپنے جاہل مولویوں کو اللہ رسول سمجھ کر ان کی اندھی پیروی شروع کر رکھی ہے اور زبان پر تحقیق تحقیق کے نعرے لگا رہے ہیں۔

آیت کا معنی
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، حدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الأَنْمَاطِيُّ، بَغْدَادِيٌّ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، نا أَيُّوبُ، عَنْ مَنْصُورٍ، ثُمَّ لَقِيتُ مَنْصُورًا، فَحدَّثَنِي عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ: " أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ كَمَا أُمِرْتَ ؛ فَإِنَّ فِي الْقِرَاءَةِ لَشُغُلًا وَسَيَكْفِيكَ ذَلِكَ الإِمَامُ
(اسناد صحیح)
ترجمہ
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں امام کے پیچھے خاموشی اختیار کرو جیسا کہ تمہیں  حکم دیا ہے کیونکہ خود پڑھنے کی وجہ سے امام کی قرات سننے سے آدمی رہ جاتا ہے اور امام کا پڑھنا ہی تمہیں کافی ہے۔
(الكتاب: كتاب القراءة  ص 109 الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت)
(الكتاب: المصنف عبد الرزاق ج2 ص 137 الناشر: المكتب الإسلامي - بيروت)

ایک راوی عبد الوہابؒ جو الحافظ الامام اور ثقہ ہیں ۔ (تذکرہ ج1 ص 295) آخری عمر میں ان کے دماغ میں کچھ فتور آگیا تھا (تقریب ص249) لیکن اس فتور کے زمانے میں انہوں نے کوئی روایت بیان نہیں کی۔(میزان الاعتدال ج2 ص 161)

لہذا اس کی سند بلکل صحیح ہے۔

عبد اللہ ابن مسعودؓ ،کون؟
اللہ کے نبی حضرت محمد رسول اللہ نے معلمین قرآن میں سب سے پہلا نمبر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا بیان کیا ہے۔ (بخاری مسلم) اور فرمایا ہے کہ  جس چیز کو تمہارے لئے عبد اللہ بن مسعود پسند کریں میں اسی پر راضی ہوں ۔ (مستدرک ج3 ص319 صحیح)

ابن مسعودؓ  کے فرمان سے دو باتیں  معلوم ہوئیں
ایک
امام کے پیچھے خاموشی اختیار کرنی ہے۔     
دوسری
قرات کو سننا ہے۔

اور قرآن پاک نے بھی یہی حکم دیا ہے
فَاسْتَمِعُوا
غور سے سنو
وَأَنْصِتُوا
اور خاموش رہو

ثابت ہوا  کہ  یہ میرا اور آپ کا حکم نہیں بلکہ قرآن کا یہ حکم ہے کہ امام کے پیچھے خاموش رہنا ہے۔ جبکہ غیرمقلدین  نہ تو خاموش رہتے ہیں اور نہ یہ ماننے کو تیار ہیں کہ خاموش رہنے کا حکم اللہ نے دیا ہے، نہ یہ ماننے کو تیار ہیں کہ یہ آیت ہمارے لئے ہے۔

اور الٹا یہ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی فرض ہے واجب ہے اور اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ جبکہ اس کے ان کے پاس نہ تو قرآن کی کوئی ایک آیت ہے نہ ہی کوئی ایک صحیح صریح مرفوع حدیث جس کے مطلق یہ لوگ کہہ سکیں کہ ہم  نے یہ حکم یہاں سے لیا ہے۔ ایک اکلوتی حدیث عبادہ بن صامتؓ والی جس کو خود ان کے اب تک کے سب سے بڑے محدث   ناصر الدین البانی صاحب نے سنن ابی داؤد کی اپنی تحقیق میں ضعیف قرار دیا ہے۔
دیکھئے (سنن ابی داؤد تحقیق ناصر الدین البانی ص 144 حدیث 823)
دوسری حدیث بخاری سے پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ جس نے فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں جبکہ مکمل حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے جس کا انہیں علم ہی نہیں۔  اس میں ہے کہ جس نے فاتحہ اور ساتھ قرآن نہ پڑھا اس کی نماز نہیں۔ یعنی یہ حدیث اکیلے نماز کیلئے ہے۔

جب یہاں بھی ان کی دال نہیں گلتی تو شافعیوں اور حنبلیوں سے بھیک مانگنے پہنچ جاتے ہیں۔ کہ وہ قرات کرتے ہیں۔ جبکہ وہ اپنے  امام کے مذہب کے پابند ہیں اگر ان سے خطا بھی ہو گئی تو انہیں ایک اجر ملے گا۔
نیز آج شافعی اور حنبلیوں میں سے کوئی بھی امام کے پیچھے قرآت کے فرض یا واجب ہونے کا قائل نہیں وہ  صرف ظہر عصر میں پڑھتے ہیں وہ بھی واجب یا فرض سمجھ کر نہیں اور بقیہ نمازوں میں نہیں پڑھتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو  کان لگا کر سنو اور چپ رہو۔
اور احناف کا استدلال ہے کہ اس میں سب نمازیں ہیں کیونکہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو کان  لگا کر سنو اس میں جہری نمازیں شامل ہو گئیں اور اگے فرمایا کہ اور چپ رہو اب  ظہر اور عصر میں امام کی قرات کی آواز تو نہیں آتی لیکن ہم خاموش رہتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں یہ لامذہب فرقہ امام کے پیچھے قرات کو فرض کہتا ہے (جس کی دنیا میں کوئی صحیح صریح دلیل ہی نہیں) اور جو نہیں پڑھتا اس کی نماز کو باطل قرار دیتا ہے۔ (فتاویٰ ستاریہ ج 1 ص 54) ، (فتاویٰ نذیریہ ج 1 ص 398) ، (مقالات راشدیہ ص 67)

اس فرقے کے اِن اکابر علماء نے اپنی ناقص تحقیق سے اسے فرض واجب قرار دیا ہے  اور آج کل ان پر مصیبت پڑی ہے کہ اس کی کوئی قوی دلیل کہاں سے لائیں۔ اور باوجود اس کے  اِس فرقے کی عوام اپنے علماء کی ناقص تحقیق کو چھوڑنے کو تیار نہیں جنہیں اس بات کا  دل سے یقین ہے وہ جماعت کی بدنامی کے ڈر سے کچھ بولتے  نہیں البتہ جماعت المسلمین جو انہی سے ایک نیا فرقہ نکلا ہے ان میں سے بعض نے ہمت کرکے اس مسئلے سے رجوع کیا ہے۔

غیرمقلدین کو جب بھی یہ آیت پیش کی جاتی ہے تو  بڑی بیغیرتی اور ڈھٹائی کے ساتھ پہلے کہتے یہ آیت کافروں کیلئے ہے پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو کہتے ہیں یہ آیت نماز کیلئے ہے لیکن مقتدیوں کیلئے نہیں (پھر اللہ  جانے کن کیلئے ہے) پھر کہیں گے  قرآن کی باقی تمام صورتیں شامل ہیں فاتحہ اس میں شامل نہیں اور اس سے بڑھ کر اگر بیغیرت ہوں تو کہہ دیتے ہیں کہ فاتحہ قرأت یعنی قرآن میں ہی نہیں۔ نعوذ باللہ
اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو  مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ کے  پاس پہنچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملفوظات حکیم الامت میں  کہیں حضرت تھانوی کا قول ہے کہ یہ نماز کیلئے نہیں یا مقتدیوں کیلئے  نہیں۔ پہلے تو ملفوظات حضرت تھانویؒ کی اپنی لکھی کتاب نہیں۔ غلط فہمی میں انہوں کہیں کہہ دیا ہو گا اور شاگرد نے سن لیا ہو گا  اور  اگے ملفوظات میں ڈال دیا۔  
   حضرت تھانویؒ نے (امداد الفتاویٰ ج 1 ص 204) پر لکھا ہے کہ اس سے استدلال ممکن ہے اور علماء نے کیا ہے۔
حضرت تھانویؒ  نے پہلے اگر ایسا موقف رکھا ہوا تھا تو یقیناً اس آیت کے متعلق صحابہ و تابعین علماء سلف وغیرہ کی تفاسیر ان کی نظر سے نہیں گزری ہوں گی اور بعد میں جب گزری تو انہوں نے رجوع کر لیا۔
 اب قیامت کے دن  اگر اللہ نے ان سے پوچھ لیا تو تب بھی یہی کہیں گے حضرت  تھانویؒ نے یوں کہا تھا؟

(آیت نمبر 12)
حضرت یوسف ؑ کا مشہور واقعہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب زلیخا نے انہیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تو حضرت یوسفؑ نے فرمایا
مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (سورت یوسف 23)
ترجمہ
معاذ اللہ (تیرا شوہر عزیز) مالک ہے میرا ، اور  اچھی طرح رکھا ہے مجھے اس نے، بے شک ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔

جبکہ فرقہ اہلحدیث نے اپنی کتاب میں لوگوں کو یہ فتویٰ دے رکھا ہے کہ

”جس کو زنا پر مجبور کیا جائے اس کو زنا کرنا جائز ہے اور کوئی حد واجب نہیں، عورت کی مجبوری تو ظاہر ہے مرد بھی اگر کہے کہ میرا ارادہ نہ تھا مگر مجھے قوت شہوت نے مجبور کیا تو مان  لیا جائے گا اگرچہ ارادہ زنا کا نہ ہو“۔
(عرف الجادی ص 215 : از نورالحسن خان غیرمقلد)

نعوذ باللہ اس فتوے کو پڑھنے کے بعد کتنے  لوگ گمراہ ہوئے ہوں گے۔
اللہ کا شکر ہے حضرت یوسفؑ کے زمانے میں اس فرقے کا وجود نہیں تھا ورنہ حضرت یوسفؑ کو بھی یہی فتویٰ دے دیتے کہ  نعوذ باللہ 

اب ذرہ ملاحظہ کیجئے فرقہ اہل حدیث کی جڑہیں کاٹنے والا ان کا اپنا اصول
”کسی گروہ کے عقائد اس کے علماء اور اکابرین طے کرتے ہیں“۔
(کیا علماء دیوبند اہلسنت ہیں ص 8)

یہ ایک حقیقت ہے کہ فرقہ اہلحدیث کے علماء اور اکابرین نے جو ان کے عقائد و نظریات طے کئے ہیں آج وہ اس فرقے کے منہ پر کالخ ہیں۔

فرقہ اہل حدیث کو چاہئے کہ وہ فوراً اس مسلئے سے اعلانیہ توبہ کریں اور اگر اس مسئلے کو غلط کہتے ہیں تو اقرار  کریں کہ آپ کے علماء قرآن حدیث سمجھنے  سے نا اہل ہیں  اور گمراہ ہوئے ہیں۔

اس فتوے کو پڑھنے کے بعد اکثر غیرمقلد جان چھڑانے کیلئے کہیں گے کہ ہم اس کے مقلد نہیں وغیرہ وغیرہ لیکن اگر اس کے مقلد نہیں تو وہ کس کا مقلد تھا وہ بھی تو آپ کی طرح غیرمقلد (لایجتہد ولایقلد) ہو کر گمراہ ہوا ہے اور یہی کہا کرتا ہو گا میں قرآن حدیث کا ماہر ہوں قرآن حدیث کا ماہر ہوں میں کسی کا مقلد  نہیں اور جب آپ کے  اتنے بڑے علماء اس طرح گمراہ ہوئے ہیں تو آپ کی کیا گرنٹی کے آپ ان کے راستے پر چلتے ہوئے گمراہ نہیں ہوں گے؟

 کسی بھی غیر مقلد اہلحدیث کے سامنے جب ان کے بڑے بڑے علماء کی عبارات پیش کی جاتی ہیں تو یہ لوگ اپنے ان غیرمقلد علماء کا انکار کرکے  خود ہی اس بات کا اقرار کر لیتے ہیں کہ ان کے وہ تمام علماء تقلید کے تارک ہو کر حق پر نہیں بلکہ گمراہ ہی تھے۔ اب اس کے بعد خود ہی فیصلہ کر لیجئے کہ کیا یہ جماعت حق پر ہے؟

(آیت نمبر 13)
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبہ 100)
ترجمہ
 اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

چونکہ فرقہ اہل حدیث کے ہاں کسی  غیر نبی  امتی کی اتباع مطلقاً ناجائز اور حرام ہے جیسا یہ ہمیشہ کہا کرتے ہیں اسلئے یہ آیت بھی ان کے موقف کے خلاف ہے۔

اللہ  تعالٰی تو فرماتے ہیں میں ان سے راضی ہو گیا لیکن ہمارے یہ غیرمقلد دوست اب تک ان سے ناراض بیٹھے ہیں کہ انہوں نے کیسے کسی غیر نبی امتیوں کی اتباع کر لی۔

اللہ کا شکر ہے کہ  یہ  اُس  دور میں نہیں تھے ورنہ صحابہ اور تابعین کو لازمی یہ کہتے  کہ آپ نے ایک ناجائز کام کیا ہے جیسے آج کل کہتے پھرتے ہیں۔

(آیت نمبر 14 )
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (القرۃ 238)
ترجمہ
خبردار رہو سب نمازوں سے اور بیچ والی نماز (عصر) سے اور کھڑے رہو اللہ کے آگے ادب سے۔

یہ آیت بھی ان کے عمل کے خلاف ہے یہ لوگ نماز میں اللہ کے سامنے ٹانگیں چوڑی کرکے ہاتھ گلے کے نیچے باندھ کر کہنیاں اٹھا کر ایسے   کھڑے ہوتے ہیں کہ ایسے اگر اپنے باپ کے سامنے بھی کھڑے ہوں تو وہ بھی کہے کہ کیسے بدتمیز اکڑ کر کھڑا ہے جس طریقے سے یہ اپنے باپ کے سامنے نہیں کھڑے ہو سکتے کہ خلاف ادب لگتا ہے اُس طریقے سے یہ تمام جہاں کے بادشاہ رب کریم کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔

اور یہ طریقہ بھی ان کا ایسے ہے کہ اس  طرح سے ادب کے ساتھ کھڑے ہوا ہی نہیں جا سکتا ، سینے پر یا اس سے تھوڑا اوپر  ہاتھ باندھنا ہے اور بازو کو سختی سے پکڑنا ہے اور ڈانگیں  ایسی چوڑھی کرنی ہیں  کہ جیسے کانٹے لگے ہوں۔

اور اس طریقے  سے پہلے کھڑے رہتے ہیں پھر جب رکوع کی باری آتی ہے یا تو اسی طریقے پر رکوع کرتے ہیں ٹانگ پھیلا کر یا پھر رکوع سے پہلے ٹانگیں بند کر دیتے ہیں پھر سجدہ کرکے اٹھتے ہیں تو اتنی ٹانگیں دوبارہ کھول کے کھڑے ہو جاتے ہیں  لگتا ہے جیسے نماز نہیں بلکہ کشتی لڑنے آئے ہوں۔
اللہ پاک ہمیں اپنے سامنے ادب کے ساتھ اور خشوع وخضوع کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق دے آمین۔

(آیت نمبر 15)
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (البقرۃ 229)
ترجمہ
 ”طلاق دو مرتبہ ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دنیا ہے“۔

غیرمقلدین کا اللہ ک کلام کے ساتھ فراڈ دیکھیں
کہتے ہیں یہاں جو لفظ”مَرَّتٰنِ ۠ “استعمال ہوا ہے اس طرح سورۃ نور میں لفظ ”مَرّٰتٍ“  استعمال ہوا ہے جو کہ ”مَرَّتٰنِ ۠ “سے نکلا ہے  وہاں  اس کیلئے  تین الگ الگ وقت  آئے ہیں،

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ
 (النور ۵۸)

”اے ایمان والو اجازت لیکر آئیں تم سے جو تمہارےہاتھ کے مال ہیں اور جو کہ نہیں پہنچے تم میں عقل کی حد کو تین بار فجر کی نماز سے پہلے اور جب اتار رکھتے ہو اپنے کپڑے دوپہر میں اور عشاء کی نماز سے پیچھے“۔

لہذا ثابت ہوا   کہ ”اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ  “ (طلاق دو مرتبہ ہے) میں بھی صرف وقفے کے ساتھ ہی دو طلاقیں دینا شامل ہے  اور ایک ہی مجلس میں یا اکھٹی دو طلاقیں اس میں شامل نہیں۔

الجواب:۔
غیرمقلدین کی اللہ کی کتاب کے ساتھ کی گئی یہ تحریف کبھی ان کی دلیل نہیں بن سکتی ۔

اسلئے کہ غیرمقلدین  کا  اللہ پاک پر  پہلے تو یہی بہتان ہے کہ ”اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۠“صرف وقفے کے ساتھ ہی دو طلاق دینا اس میں شامل ہے اور اکھٹی ایک ہی مجلس میں دو طلاق دے دینا اس آیت میں شامل نہیں۔ معاذ اللہ

صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ (صحیح بخاری ج۱ حدیث:۱۶۲)
ترجمہ :۔عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا اور ہر عضو کو دو دو مرتبہ دھویا۔

یہاں پر بھی لفظ” مَرَّتَيْنِ“ہی استعمال ہوا ہے جو کہ ”مرت “  سے نکلا ہے جو کہ ایک ہی مجلس میں دو مرتبہ ہر عضو کو دھونے کیلئے استعمال ہوا ہے۔ اگر غیرمقلدین  والا معنی یہاں لیا جائے جیسا کہ  وہ کہتے ہیں کہ  ”مَرّٰتٍ “ میں  ایک مجلس یا اکھٹی کوئی چیز شامل نہیں ہوتی تو ”نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا اور ہر عضو کو دو دو مرتبہ دھویا“۔  کا معنی یہ ہو گا کہ پہلے ایک ایک مرتبہ ہر عضو کو دھویا پھر دوسری مجلس میں آکر  پھر ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔ جو کہ قطعاً درست نہیں ہو سکتا۔

معلوم ہوا کہ لفظ”مَرّٰتٍ “،”مَرَّتٰنِ “،” مَرَّتَيْنِ“  ان میں  ایک مجلس بھی شامل ہے اور الگ الگ مجالس بھی شامل ہیں لہذا یہ دلیل تو ہماری بنی کہ ”اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۠ “ طلاق دو مرتبہ ہے ۔(چاہے جیسے بھی دو) خواہ کوئی   ایک ہی مجلس میں  اکھٹی دو طلاقیں دے دے جیسا بخاری کی حدیث میں ایک  ہی  مجلس میں دو  مرتبہ ہر عضو کو دھونے کیلئے یہ استعمال ہوا ہے یا کوئی وقفے کے ساتھ الگ الگ وقت یا مختلف مجلسوں میں  دو طلاق دے جیسا کہ سورۃ نور کی آیت۵۸  میں الگ الگ وقتوں میں سلام کرنے  کیلئے استعمال ہوا ہے ہر صورت ”اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ  “”طلاق دو مرتبہ ہے “میں  دونوں باتیں شامل ہیں  نہ کہ کسی ایک  ہی کی قید ہے، اور  کسی ایک   ہی کی قید لگانا  (جیسا  غیرمقلدین    کا مسئلہ ہے کہ اکھٹی دو یا ایک مجلس میں دو طلاقیں  دو نہیں  ہیں) قرآن پاک کے معنوں میں کھلی تحریف ہے، جس کا انجام جہنم ہے۔

اکھٹی تین طلاق واقع نہیں ہو گی اس مسئلہ میں فرقہ اہل حدیث کو چھانٹ چھانٹ کر دیکھا گیا لیکن ان کے پاس نہ تو قرآن پاک کی کوئی  آیت ہے نہ ہی کوئی ایک صحیح  صریح دلیل  جو صریح  ہے وہ صحیح نہیں جو صحیح ہے وہ صریح نہیں۔

اس مسئلے میں ان کے پاس ایک محمد بن اسحاق والی کوئی روایت ہے جو ایسی ضعیف روایت ہے کہ اگر اسے ضعیف نہ مانا جائے تو پھر دنیا کی کوئی حدیث ضعیف ثابت نہ ہو سکے تفصیل ”حرام کاری سے بچئے“ کتاب میں ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔ اور دوسری  صحیح مسلم کی حدیث  ہے جس سے انہیں دھوکہ لگا ہے جسے انہوں نے سمجھا نہیں اور انکھیں بند کر لیں  مگر اس میں بھی اکھٹی طلاق  کا ذکر نہیں اور اگر اس کا معنی اپنی مرضی سے کرنا ہو تو اس حدیث کے مطابق تو الگ الگ مجالس کی طلاق بھی ایک قرار دی جاسکتی ہے۔
لیکن حقیقت میں وہ  حدیث غیر مدخولہ کیلئے ثابت ہے جیسا کہ  خود محدث امام نسائیؒ نے بھی اس پر غیر مدخولہ کا باب باندھا ہے۔
بَابُ: طَلَاقِ الثَّلَاثِ الْمُتَفَرِّقَةِ قَبْلَ الدُّخُولِ بِالزَّوْجَةِ
(سنن النسائي ج6 ص145 مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب)
اور یہ ثابت بھی غیر مدخولہ کیلئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ مشہور غیرمقلد زبیر علی زئی صاحب اور ان کے کئی شاگردوں  نے بھی اس مسئلے میں  فرقہ اہل حدیث کو چھوڑ رکھا ہے۔
(معلوم ہوا امام نسائیؒ بھی اہلحدیث  نہیں تھے اگر تھے تو آج کے یہ غیرمقلدین اہل حدیث نہیں)
یاد رہے یہ مسئلہ غیر اجتہادی ہے۔

مسئلے کی وضاحت
   ہم سب کا اس پر اتفاق ہے بیوی کو ہمبستری سے پہلے  تین طلاق دینے کی ضرورت نہیں ایک مرتبہ اگر کہا جائے کہ تجھے طلاق تو وہ نکاح سے نکل جاتی ہے۔ مگر مرد پر ہمیشہ کیلئے حرام نہیں ہوتی دوبارہ اسی وقت اس مرد سے نکاح کر سکتی ہے اس لئے کہ حرام تین طلاق واقع ہونے کی صورت میں ہوتی ہے  ایک میں نہیں۔

اور اگر ہمبستری سے پہلے بیوی کو یوں کہا جائے کہ ”تجھے طلاق ، تجھے طلاق، تجھے طلاق“ تو چونکہ پہلے مرتبہ کہہ دینے نے  ہی نکاح سے عورت کو نکال دیا ہے اسلئے باقی دو مرتبہ کہنا فضول جاتا ہے۔ اِسے کہا  گیا کہ اس زمانے میں اگر کوئی یوں طلاق دیتا تو ایک طلاق واقع ہو جاتی۔ یہ مسئلہ کبھی نہیں بدلہ گیا حضرت عمر  رضی اللہ عنہ کے دور میں  بھی ایسا ہی رہا    اب بھی ایسا ہی ہے۔

اب   ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کوئی اپنی  غیر مدخولہ بیوی کو ایک ساتھ ہی کہہ دے کہ  ”تجھے تین طلاق“ تو پھر کتنی طلاق واقع ہوں گی تو اس صورت میں اسے ایک طلاق نہیں ہو سکتی پوری تین طلاق واقع ہو جائیں گی اور وہ عورت نکاح سے نکلنے کے ساتھ ساتھ اس مرد پر حرام بھی ہو جائے گی اور دوبارہ نکاح بھی نہیں کر سکتی۔

اب یہ جو تیسرے نمبر کی صورت ہے یہ رسول اللہ اور حضرت ابو بکرؓ  کے دور میں نہ ہونے کے برابر تھی اور غیر مدخولہ کو پہلے یا دوسرے طریقے پر طلاق دی جاتی تھی لیکن جب حضرت عمرؓ کے دور میں جیسے جیسے   اسلام  دور دور تک پھیلتا گیا نئے نئے مسئلےپیدا ہوتے گئے لوگوں کی کثر ت صحیح مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سےاپنی غیر مدخولہ بیوی کو بھی ایک لفظ سے اکھٹی تین طلاق دے کر جدا کرنے لگی  تو اب طلاقیں تو تین ہی واقع ہو رہی تھیں تو حضرت عمرؓ نے بھی اسی کو نافظ کر دیا  اور لوگوں کو آگاہ کر دیا  کہ غیر مدخولہ بھی اکھٹی تین طلاق کے بعد حرام ہو جاتی ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ غیرمدخولہ کو  جس طرح الگ الگ کرکے تین طلاق دینا ایک شمار ہوتا ہے ایسے ہی اکھٹی  تین دینا بھی ایک شمار ہو گا۔

مثال کے طور پر
متعہ پر رسول اللہ کے دور میں ہی پابندی لگ گئی تھی مگر بعض کو یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہیں بھی حضرت عمرؓ نے ایسے ہی آگاہ کیا

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنْ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ حَتَّی نَهَی عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ
ترجمہ
 حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی آٹے کے عوض مقررہ دنوں کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے زمانہ میں متعہ کرلیتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر (رض) نے عمرو بن حریث کے واقعہ کی وجہ سے متعہ سے منع فرمایا دیا۔
( صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 923  )

غیرمقلدین صحیح مسلم سے جو حدیث پیش کرتے ہیں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ أَبَا الصَّهْبَائِ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ هَاتِ مِنْ هَنَاتِکَ أَلَمْ يَکُنْ الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَاحِدَةً فَقَالَ قَدْ کَانَ ذَلِکَ فَلَمَّا کَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ تَتَايَعَ النَّاسُ فِي الطَّلَاقِ فَأَجَازَهُ عَلَيْهِمْ

اسحاق بن ابراہیم، سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب سختیانی، ابراہیم بن میسرہ، حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ ابوالصہباء نے ابن عباس (رض) سے کہا اپنے دل سے یاد کر کے بتاؤ کیا تین طلاق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اور ابوبکر (رض) کے دور میں ایک نہ ہوتی تھیں؟ انہوں نے کہا ایسے ہی تھا جب زمانہ عمر میں لوگوں نے پے درپے طلاقیں دینا شروع کردیں تو آپ نے ان پر تین طلاق نافذ ہونے کا حکم دے دیا۔
( صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1182 )

دیکھئے اس حدیث میں ایک مجلس یا اکھٹی کی کوئی قید نہیں اگر مرضی کا مطلب لینا ہے تو پھر یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ الگ الگ مجالس  کی دین  طلاق بھی ایک ہوتی تھیں اس زمانے میں۔

یہی حدیث مکمل سنن ابی داؤد میں موجود ہے جس میں تصریح ہے کہ یہ حدیث غیر مدخولہ کیلئے  یے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ أَبُو الصَّهْبَائِ کَانَ کَثِيرَ السُّؤَالِ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلَی کَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ فَلَمَّا رَأَی النَّاسَ قَدْ تَتَابَعُوا فِيهَا قَالَ أَجِيزُوهُنَّ عَلَيْهِمْ
ترجمہ
محمد بن عبدالملک بن مروان، ابونعمان، حماد بن زید، ایوب، حضرت طاؤس (رض) سے روایت ہے کہ ابوالصہباء نامی ایک شخص حضرت عباس (رض) سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتا تھا ایک دن اس نے پوچھا کہ کیا آپ کو اس بات کا علم ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اور حضرت ابوبکر (رض) کے زمانہ خلافت میں اور حضرت عمر (رض) کے ابتدائی عہد خلافت میں جب کوئی شخص دخول سے قبل عورت کو تین طلاقیں دیتا تھا تو وہ ایک ہی شمار ہوتی تھی حضرت ابن عباس (رض) نے جواب دیا ہاں مجھے معلوم ہے جب کوئی شخص دخول (جماع) سے قبل عورت کو طلاق دیتا تھا تو وہ ایک ہی شمار کی جاتی تھی عہد رسالت میں عہد صدیقی میں اور عہد فاروقی کے ابتدائی دور میں لیکن جب عمر فاروق نے یہ دیکھا کہ لوگ کثرت سے تین طلاقیں دینے لگے ہیں تو انہوں نے فرمایا میں ان تینوں کو ان پر نافذ کروں گا
(سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 435 اسنادہ : صحیح)

یہ حدیث بلکل صحیح ہے لیکن غیرمقلدین  کا اس پر احمقانہ اعتراض ملاحظہ کیجئے 
کہتے ہیں ابو داؤدؒ کی اس حدیث کی سند میں ”عن ایوب“ کے بعد ”غیر واحد“ ہے جو کہ مجھول ہے۔ لہذا حدیث ضعیف ہے۔

الجواب :
غیر واحد کا مطلب ہے ایک سے زائد لوگ اسے بیان کرتے ہیں۔

 امام ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں
غیر واحد سے یہاں ابراہیم بن میسرۃؒ اور ان کے ساتھی مراد ہیں۔

 أَخْرَجَهَا أَبُو دَاوُدَ لَكِنْ لَمْ يُسَمِّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَيْسَرَةَ وَقَالَ بَدَلَهُ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ وَلَفْظُ الْمَتْنِ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا جَعَلُوهَا وَاحِدَةً الْحَدِيثَ
(الكتاب: فتح الباري شرح صحيح البخاري ج9 ص 363 دار المعرفة - بيروت)

اور ابراہیم بن میسرۃؒ  بالاتفاق ثقہ راوی ہیں۔

امام ابو حاتمؒ فرماتے ہیں ثقہ ہیں، امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں ثقہ امام نسائی فرماتے ہیں  ثقہ ہیں، امام احمد بن صالح فرماتے ہیں ثقہ ، امام ابن حجرؒ فرماتے ہیں  ثبت حافظ ، محمد بن سعدؒ فرماتے ہیں ثقہ ، یحیی بن معینؒ فرماتے ہیں ثقہ۔
(تهذيب التهذيب ج1 ص 171 الناشر: مطبعة دائرة المعارف النظامية)

ایسا نہیں کہ امام ابراہیم بن میسرۃؒ   کسی  اور مجھول سے روایت کرتے ہیں بلکہ امام ابراہیم بن میسرۃؒ بیان کرتے ہیں اسی طرح ان کی جگہ ان کے ساتھی بھی یہی کہتے ہیں جو  امام ابراہیمؒ نے کہا اس لئے امام ابو داؤدؒ نے غیر واحد کہا صرف امام ابراہیم روایت کرتے تب  بھی کافی تھا جیسا صحیح مسلم کی روایت میں عن ایوب عن ابراہیم کے بعد طاؤس ہے جبکہ غیرمقلدین  نے ضعیف ضعیف کے نعرے لگا کر انصاف کو ذبح کرتے ہوئے حدیث کا ہی انکار کر دیا۔ 

غیرمقلدین اگر سنن ابی داؤد کی یہ روایت نہ بھی مانیں تب بھی وہ صحیح مسلم کی روایت سے اپنا موقف قیامت تک نہیں ثابت کر سکتے ان شاء اللہ کیونکہ مسلم کی روایت میں اکھٹی طلاق یا ایک مجلس کی طلاق کی طلاق کا کوئی ذکر نہیں اس سے تو معلوم ہی نہیں  ہوتا کہ اِس سے الگ الگ مجالس کی طلاق مراد ہے، اکھٹی (مدخولہ اور غیرمدخولہ) کی طلاق مراد ہے یا صرف غیر مدخولہ کی مراد ہے اور انصاف کی روشنی میں دلائل سب اسی طرح اشارہ کرتے ہیں کہ اس سے غیر مدخولہ مراد ہے۔ لہذا انہیں اپنا موقف ثابت کرنے کیلئے یہ دکھانا بہت ضروری ہے کہ کون سی طلاق مراد  ہے  ورنہ اس روایت کے مطابق تو کوئی غیرمقلد جو اپنی بیوی کو ایک دن میں تین الگ الگ مجلسوں میں طلاق دے دے اور  بیوی چھوڑنے کا دل نہ کرے تو صحیح مسلم کی حدیث پیش کرے کہ رسول اللہ ، حضرت ابو بکرؓ کے زمانے میں تین طلاق ایک ہوتی تھیں لہذا تین نہیں ایک طلاق واقع ہوئی۔

غیرمقلدین کے ہاں غیر مدخولہ کسی بھی طریقے پر حرام نہیں ہوسکتی
لیکن غیر مدخولہ بھی حرام ہو سکتی ہے اور اس کی ایک ہی صورت ہے وہ یہ کہ اسے یوں طلاق دی جائے ”تجھے تین طلاق“اس طریقے پر اس پر تین طلاق واقع ہو جائیں گی۔ اگر ”طلاق ، طلاق ، طلاق“ کہہ کر طلاق دی جائے تو ظاہر سی بات ہے پہلی مرتبہ ”طلاق“ کہنے پر ہی وہ نکاح سے نکل جائے گی اور باقی دو مرتبہ طلاق کہنا فضول جائے  گا اسلئے اس طرح اس پر تین طلاق واقع نہیں ہوں گی۔

أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنَ الْأَشَجِّ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: فَجَاءَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَاذَا تَرَيَانِ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: " إِنَّ هَذَا لَأَمْرٌ مَا لَنَا فِيهِ قَوْلٌ اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنِّي تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَسَلْهُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا فَذَهَبَ فَسَأَلَهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَفْتِهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَدْ جَاءَتْكَ مُعْضِلَةٌ , فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ " الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمه:۔
حضرت معاویہ بن ابی عیاش انصاریؒ فرماتے ہیں کہ  میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور عاصم بن عمروؒ کی مجلس یں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں حضرت محمد بن ایاس بن بکیرؒ تشریف لائے اور پوچھنے لگے کہ ایک دیہاتی گنوار نے اپنی غیر مدخول بہا بیوی (جس سے ابھی تک ہمبستری نہیں کی گئی) کو تین طلاقیں دے دی ہیں اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ حضرت عبداللہؓ بن زبیرؓ نے فرمایا جا کر عبداللہؓ بن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے پوچھو میں ابھی ان کو حضرت عائشہؓ کے پاس چھوڑ کے آیا ہوں مگر جب ان سے سوال کر چکو تو واپسی پر ہمیں بھی مسئلہ سے آگاہ کرنا جب سائل ان کے پاس حاضر ہوا  اور دریافت کیا تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہؓ فتویٰ دیجئے لیکن سوچ سمجھ کر بتانا کیونکہ مسئلہ پیچیدہ ہے حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ ایک طلاق اس سے علیحدگی کیلئے کافی تھی اور تین طلاقوں سے وہ اس پر حرام ہو گئی ہے،” حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ“(الایة) ”حتی کہ  کسی اور مرد سے نکاح نہ کرلے “۔ اور حضرت ابن عباسؓ نے بھی  یہی فتویٰ دیا۔
(السنن الكبري للبيهقي جلد7 ص549 ؛صحیح)

غور کیجئے یہاں ابن عباسؓ نے بھی ایسا ہی کہا اور ابن عباسؓ وہی صحابی ہیں جن سے غیرمقلدین مسلم کی حدیث لیتے ہیں اگر واقعی مسلم کی  حدیث کا وہ مطلب ہوتا جو غیرمقلدین کرتے ہیں تو ابن عباسؓ یہاں کیوں نہ بیان کرتے؟ 
اور یہ بھی غور کیجئے حضرت ابو ہریرہ ؓ نے   جو اس پر شرط لگائی ہے وہ قرآن پاک سے نکال کر لگائی ہے  کہ وہ تب تک تمہارے لئے حلال نہیں جب تک کسی اور مرد سے نکاح نہ کر لے۔ اگر اکھٹی تین طلاق کا یہ فتویٰ حضرت عمرؓ کو ہوتا تو پھر قرآن کی آیت کس لئے پیش کرتے؟ معلوم ہوا یہ حکم اللہ کا ہے کسی کی ذاتی رائے نہیں۔
اور ایک بات بھی معلوم ہو گئی یہ صحابہ بھی اہل حدیث نہیں تھے اگر تھے تو پھر آج  کہ یہ غیرمقلدین اہل حدیث نہ ہوئے۔
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ , نا أَبُو الْأَزْهَرِ , نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أنا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْفًا , فَقَالَ: «يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثٌ وَتَدَعُ تَسْعَمِائَةً وَسَبْعًا وَتِسْعِينَ»
ترجمہ:
سعید بن جبیرؒ فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دے دیں تو ابن عباسؓ نے فرمایا  تین اس کیلئے کافی ہیں باقی نو سو ستانوے  چھوڑ دے۔
(سنن الدارقطني ج 5 ص 24  : صحیح)

یہ روایت بلکل صحیح ہے۔ شمس الحق عظیم آبادی صاحب جنہیں فرقہ اہلحدیث اپنا  بہت بڑا محدث سمجھتی ہے انہوں نے بھی اس کے صحیح ہونے کا اقرار کیا ہے۔ دیکھئے 
(سنن الدارقطنی ج 5 ص 24 تعلیق شمس الحق)

اب ہمیں کس طرف جانا ہے صحابہ کرامؓ کے واضح مسئلے کی طرف جو ان شاء اللہ انہیں اور ان کے ماننے والوں کو ضرور جنت میں لے جائے گا  یا پھر  غیرمقلدین کے  مضطرب مسئلے کی طرف؟

مسئلہ بس اتنا سا تھا لیکن فرقہ اہل حدیث کے احمق علماء کو سمجھ نہیں آیا تو انہوں نے کیا کیا گل کھلائے دیکھئے۔
فرقہ اہلحدیث کے مولوی عبد المتین میمن طلاق ثلاثہ کے مسئلہ میں لکھتا ہیں:
”سنت محمدی کو چھوڑ کر سنت عمرؓ کی طرف لوٹیں گے تو کفر ہے“۔
(حدیث خیر و شر ص 110)
العیاذ باللہ
پہلے عمرؓ کو نبی کے مقابلے میں کھڑا کر دیا  پھر ان کی طرف رجوع کرنے والے کو کافر قرار دیا اس میں وہ تمام صحابہ کرام ؓ آگے جنہوں نے بقول ان کے  حضرت عمرؓ کی پیروی کی لہذا اس احمق مولوی  کے مطابق حضرت عمرؓ اور ان کے پیروا سب کافر ہوئے۔  نعوذ باللہ

(آیت نمبر 16)
 فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ
(البقرۃ 230)
ترجمہ:
 پھر اگر وہ اسے طلاق دیدے تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے۔

اس آیت سے پہلے ”اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ “ کا ذکر آیا تھا یعنی طلاق دو مرتبہ ہے اسکے بعد یہ آیت  ہے کہ ” پھر اگر اسے طلاق دیدے (یعنی تیسری طلاق) تو وہ عورت اس کیلئے حلال نہیں جب تک کہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے“۔

فرقہ اہلحدیث اس آیت کو مسلکی مجبوری کے تحت مخصوص کرتا ہے جب کہ اس کو  مخصوص کرنے کی کوئی دلیل نہیں لہذا اس آیت کو مخصوص کرنا بلکل جائز نہیں اس آیت سے واضح معلوم ہوگیا کہ اگر کوئی شخص دوسری طلاق کے  فوراً بعد تیسری طلاق دیدے یا دوسری طلاق کے بعد وقفے کے ساتھ تیسری  طلاق دیدے تو وہ عورت اس آدمی کیلئے حلال نہیں۔

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:
قَالَ الْقُرْطُبِيُّ وَحُجَّةُ الْجُمْهُورِ فِي اللُّزُومِ مِنْ حَيْثُ النَّظَرُ ظَاهِرَةٌ جِدًّا وَهُوَ أَنَّ الْمُطَلَّقَةَ ثَلَاثًا لَا تَحِلُّ لِلْمُطَلِّقِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ وَلَا فَرْقَ بَيْنَ مَجْمُوعِهَا وَمُفَرَّقِهَا لُغَةً وَشَرْعًا
ترجمہ:
قرطبیؒ نے کہا جہمور کی دلیل یہ ہے کہ جس عورت کو تین طلاقیں ہو جائیں وہ اس آدمی کیلئے حلال نہیں جب تک  کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے اور لغتۃ و شرعاً اس میں  کوئی فرق نہیں کہ وہ تین طلاقیں اکھٹی ہوں یا متفرق۔
(فتح الباري لابن حجر ج 9 ص 365 الناشر: دار المعرفة - بيروت)

صحابہ کرامؓ کا قرآن پاک سے استدلال
حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت جو ہم نے اوپر بھی پیش کی
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنَ الْأَشَجِّ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: فَجَاءَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَاذَا تَرَيَانِ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: " إِنَّ هَذَا لَأَمْرٌ مَا لَنَا فِيهِ قَوْلٌ اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنِّي تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَسَلْهُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا فَذَهَبَ فَسَأَلَهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَفْتِهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَدْ جَاءَتْكَ مُعْضِلَةٌ , فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ " الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمه:۔
حضرت معاویہ بن ابی عیاش انصاریؒ فرماتے ہیں کہ  میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور عاصم بن عمروؒ کی مجلس یں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں حضرت محمد بن ایاس بن بکیرؒ تشریف لائے اور پوچھنے لگے کہ ایک دیہاتی گنوار نے اپنی غیر مدخول بہا بیوی (جس سے ابھی تک ہمبستری نہیں کی گئی) کو تین طلاقیں دے دی ہیں اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ حضرت عبداللہؓ بن زبیرؓ نے فرمایا جا کر عبداللہؓ بن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے پوچھو میں ابھی ان کو حضرت عائشہؓ کے پاس چھوڑ کے آیا ہوں مگر جب ان سے سوال کر چکو تو واپسی پر ہمیں بھی مسئلہ سے آگاہ کرنا جب سائل ان کے پاس حاضر ہوا  اور دریافت کیا تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہؓ فتویٰ دیجئے لیکن سوچ سمجھ کر بتانا کیونکہ مسئلہ پیچیدہ ہے حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ ایک طلاق اس سے علیحدگی کیلئے کافی تھی اور تین طلاقوں سے وہ اس پر حرام ہو گئی ہے،” حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ“(الایة) ”حتی کہ  کسی اور مرد سے نکاح نہ کرلے “۔ اور حضرت ابن عباسؓ نے بھی  یہی فتویٰ دیا۔
(السنن الكبري للبيهقي جلد7 ص549 ؛صحیح)

غیر مدخولہ عورت غیرمقلدین کے ہاں کسی طریقے پر بھی حرام نہیں ہو سکتی لیکن غیرمدخولہ کے حرام ہونے کا بھی طریقہ ہے وہ یہ کہ اسے ایک ہی لفظ سے تین طلاقیں دے دی جائیں، یعنی کہا جائے تجھے تین طلاق اگر الگ الگ کہہ کر تین طلاق دی جائیں یعنی طلاق طلاق طلاق کہہ کر تو پہلی طلاق سے ہی وہ عورت نکاح سے نکل جائے گی دوسری دو  بیکار جائیں گی کیونکہ غیر مدخولہ کو  علیحدہ کرنے کیلئے ایک طلاق کافی ہوتی ہے اس سے وہ نکاح سے نکل جاتی ہے۔

یہاں حضرت ابو ہریرہؓ  فرما رہے ہیں کہ وہ حرام ہو گئی ظاہر سی بات ہے اب حرام ہونے کی ایک ہی صورت ہے۔ اکھٹی ایک لفظ کے ساتھ

 غور کیجئے حضرت ابو ہریرہ ؓ نے   جو اس پر شرط لگائی ہے وہ قرآن پاک سے نکال کر لگائی ہے  کہ وہ تب تک تمہارے لئے حلال نہیں جب تک کسی اور مرد سے نکاح نہ کر لے۔ معلوم ہوا یہ حکم اللہ کا ہے۔
اور اللہ کا شکر ہے کہ ہم اللہ کے حکم کو تسلیم کرتے ہیں۔
اور ایک بات بھی معلوم ہو گئی یہ صحابہ بھی اہل حدیث نہیں تھے اگر تھے تو پھر آج  کا یہ فرقہ اہل حدیث قطعاً نہیں۔

دوسرا یہ کہ فرقہ اہل حدیث اس آیت کا مذاق بھی اڑاتے ہیں تین طلاق دینے کے بعد غیرمقلد آدمی اپنی بیوی سے رجوع کر لیتا ہے اور پھر ساری عمر زنا کرتا رہتا ہے اور جو یہ کہے کہ وہ عورت تب تک تمہارے لئے حلال نہیں جب تک کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے  یہ حلالہ ہے یہ فلاں ہے اگرچے خود زنا میں مبتلا ہوتا ہے۔

تیسرا یہ کہ بار بار طلاق دینا اور بار بار رجوع کرلینے کا بھی فتویٰ علماء فرقہ  اہل حدیث نے دے رکھا ہے۔

سائل نے  ایک غیرمقلد مولوی عبد اللہ ویلوری سے سوال پوچھا۔
سوال: زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ اس کے بعد 10 یو زید نے رجوع کر لیا پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ تنازع ہونے کی صورت میں اس نے طلاق دے دی۔ آٹھ یوم کے بعد پھر رجوع کر لیا۔ اس نے چار پانچ مرتبہ ایسا ہی کیا۔ طلاق دے دی اور رجوع کر لیا زید کو اس مسئلہ کے بارے میں کوئی علم نہ تھا اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟؟ اب پھر دوبارہ رجوع کرنا چاہتا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں  فتویٰ صادر فرمائیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
جواب:
صورت مسئلولہ میں رجوع کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ دو گواہوں کے ر برو رجوع کرکے بیوی کو آباد کر سکتا ہے
(فتاویٰ جات ص 482)

اس احمق مولوی نے تین طلاق کی حد  ہی ختم کر دی جو کہ شریعت نے ہمیں دی تھی۔
اب کوئی غیرمقلد  صبح شام بیوی کو طلاق دیتا پھرے اور رجوع کرے بیوی اس کے لئے حلال ہے۔


مسئلہ طلاق ثلاثہ وکٹورین غیرمقلدین کے عجیب و غیریب قیاس

کہتے ہیں اکھٹی تین طلاق دینا حرام ہے لہذا واقع نہیں ہو گی۔
اگر اکھٹی تین طلاق حرام ہونے کی وجہ سے واقع نہیں ہوں گی تو اکھٹی تین طلاق دینے سے یہ ایک کیسے واقع ہوجاتی ہے دوسرا حالت حیض میں ایک طلاق دینا بھی حرام ہے لیکن غیرمقلد بھی مانتے ہیں کہ یہ واقع ہو جائے گی۔ اب یہ حرام ہے اور واقع مان رھے ہو۔
ایک دن میں تین الگ الگ مجلسوں میں  بھی طلاق دینا اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا کہ اکھٹی تین طلاق دینا لیکن  پھر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔، غیرمقلدین بھی مانتے ہیں کہ طلاق واقع ہو گئی؟
اسی طرح ایک بڑ اور بھی مارتے ہیں کہتے ہیں نماز غلط وقت پر پڑھنا حرام ہے لہذا یہ ادا بھی نہیں ہوتی، لہذا طلاق بھی نہیں ہوئی وہی جواب حالت حیض بھی غلط وقت ہے اس میں دی گئی ایک طلاق کو کیسے واقع مان لیتے ہو؟؟؟
جو غلط قیاس یہ لوگ کرتے ہو اس سے ان کا دوسرا مسئلہ خود ہی رد ہوتا جاتا ہے۔
قران حدیث قران حدیث کے زبانی دعوے کرنے والوں کی یہ حالت بھی  ہوتی جب ان کے پاس نہ قرآن ہوتا ہے دلیل کیلئے نہ حدیث پھر یہ  قرآن حدیث کے خلاف قیاسات کرتے ہیں۔

اب اس سب کے بعد کون کہے کہ یہ جدید گمراہ ٹولہ قرآن حدیث والا ہے؟

اللہ پاک سمجھ کی توفیق دے آمین

(آیت نمبر 17)

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا
ترجمہ:
”اے نبی جب تم طلاق دو عورتوں کو تو انکو طلاق دو اُنکی عدت پر اور گنتے رہو ان کی عدت
اور ڈرو اللہ سے جو رب ہے تمہارا مت نکالو اُنکو اُنکے گھروں سے اور وہ بھی نہ نکلیں مگر جو کریں صریح بے حیائی
اور یہ حدیں ہیں باندھی ہوئی اللہ کی اور جو کوئی بڑھے اللہ کی حدوں سے تو اُس نے برا کیا اپنا اور اُسکو  کیا خبر تھی شاید اللہ پیدا کر دیتا اُس طلاق کے بعد  کوئی صورت “
(الطلاق 1)

قرآن کریم میں اجملاً  اور حدیث میں تفصیلاً یہ بتایا گیا ہے کہ عورتوں کو طلاق دینے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک طلاق دے دوسرے میں دوسری طلاق دے ، تیسرے طہر میں تیسری
اور فرمایا
وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ
”جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا“۔

حدود اللہ سے تجاوز تب ہو گا جب  اکھٹی تین طلاق دیدے اور تینوں واقع ہو جائیں اگر اکھٹی تین طلاق سے ایک طلاق واقع ہو تو یہ نہ حدود اللہ سے تجاوز ہو سکتا ہے نہ اپنے نفس پر ظلم۔ حدود اللہ سے تجاوز اور اپنے نفس پر ظلم اسی صورت ہوتا ہے جب کوئی شخص اکھٹی تین طلاقیں دیدے اور پھر رجوع نہ کر سکے۔ پھر کہے فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَہٗ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔

آیت کے آخری حصے پر غور کیا جائے تو  اس سے بھی واضح طور پر یہی ثابت ہوتا ہے۔

لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا
”ممکن تھا کہ اللہ پیدا کر دیتا اس طلاق کے بعد  کوئی صورت“۔

اگر تین طہروں میں الگ الگ طلاق دینے کا ارادہ ہو تو ممکن ہے کہ پہلی یا دوسری طلاق کے بعد اس طلاق دینے والے کے دل  کو اللہ نرم فرما دیں اور اسی اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور اس وقت اس کے  پاس رجوع کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن اگر کوئی اکھٹی تین طلاق دیدے   تو پھر اسکے پاس کوئی گنجائش نہیں۔

سورۃ طلاق کی اس آیت کے بعد  اگلی آیت میں آتا ہے کہ

(آیت نمبر 18)
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا
(الطلاق2 )
ترجمہ
اور جو کوئی (طلاق دینے میں) اللہ سے ڈرتا ہے (یعنی شرعی طریقے کے مطابق طلاق دیتا ہے) تو اللہ تعالٰی اس  کیلئے راستہ نکال دیتا ہے۔

یعنی اگر کوئی آدمی اللہ تعالٰی سے ڈرے اور شرعی طریقے کے مطابق تین طہروں میں متفرق طور پر طلاق دے رو اس کیلئے اللہ نے پہلی اور دوسری طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش رکھی ہے۔ ممکن ہے کہ بندہ پہلی طلاق کے بعد سمجھ لے کہ اس نے غلطی کی ہے طلاق نہیں دینی تھی یا پھر دوسری طلاق کے بعد سمجھ لے تو  اللہ نے اس کیلئے رجوع کی گنجائش رکھی ہے وہ دوبارہ رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

چونکہ اس آیت میں رجوع والی گنجائش کو اللہ تعالٰی سے ڈرنے کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالٰی نے اس کیلئے گنجائش رکھی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی اللہ سے نہ ڈرے اور خلاف شرع اکھٹی تین طلاق دیدے تو اس کیلئے رجوع کی کوئی گنجائش نہیں۔

اگر اللہ سے ڈرنے اور نہ ڈرنے دونوں صورتوں میں رجوع کر سکتا ہوتا تو اللہ تعالٰی سے ڈرنے کی شرط اور گنجائش والی بات بے معنی اور بے فائدہ جاتی۔ (نعوذ باللہ من ذلک) لیکن ہم اللہ کے  کلام کی ایک آیت بھی بے معنی اور بے فائدہ نہیں سمجھتے جبکہ غیرمقلدین اس کے برعکس ہیں۔

وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، نا إِسْمَاعِيلُ، أنا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ رَادُّهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَرْكَبُ الْحُمُوقَةَ ثُمَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَإِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ قَالَ: {وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} [الطلاق: 2] وَإِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللهَ فَلَا أَجِدُ لَكَ مَخْرَجًا عَصَيْتَ رَبَّكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ
ترجمہ:
مجاہدؒ کہتے ہیں میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس تھا آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں حضرت ابن عباسؓ خاموش رہے حتی کہ  ہم نے یہ گمان کیا شاید وہ اس عورت کو واپس اسے دلانا چاہتے ہیں مگر ابن عباسؓ نے فرمایا تم خود حماقت کا ارتکاب کرتے ہو اور پھر کہتے ہو اے ابن عباس ! اے ابن عباس !  اور اللہ عزوجل نے فرمایا  وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (الایة) جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کیلئے مشکل سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور تو اللہ سے نہیں ڈرا پس میں  تیرے لئے  کوئی راستہ نہیں پاتا تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہو گئی۔
( السنن الكبرى للبيهقي ج 7 ص 542 : صحیح)

ظاہر سی بات ہے یہاں اکھٹی تین طلاق ہی دی گئیں تھی تب ہی تو ابن عباسؓ نے اسے ڈانٹا  اور قرآن کی آیت بطور دلیل دی اور یہ وہی ابن عباسؓ ہیں جن سے غیرمقلد مسلم کی حدیث پیش کرتے ہیں۔

ایک اور روایت ہے کہ
- نا أَبُو بَكْرٍ (النيسابوري) , نا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , نا حَجَّاجٌ , نا شُعْبَةُ , عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ , وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً , قَالَ: «عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ فَيُجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا»
ترجمہ:
مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ سے ایک آدمی کا پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دیدی ہوں تو فرمایا تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی تیری بیوی تجھ سے جدا ہو گی تَتَّقِ اللَّهَ فَيُجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا کیونکہ تو اللہ سے نہیں ڈرا  پس تیرے  لئے کوئی گنجائش نہیں۔
(سنن الدارقطني ج 5 ص 24  : صحیح)
یہ روایت بلکل صحیح ہے اس کے تمام راوی ثقہ  ہیں۔

اس آدمی نے سو طلاقیں ایک ہی مجلس میں دیں تھیں یا سو طلاقیں سو الگ الگ مجلسوں مین  دے کر آیا تھا ؟ یقیناً ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو ”تجھے سو طلاقیں“ کہہ کر آیا تھا اور ابن عباسؓ جو قرآن  کی آیت اسے یاد دلا رہے ہیں کہ تمہارے لئے کوئی گنجائشن  نہیں، معلوم ہوا ہم ابن عباسؓ  جیسے جلیل القدر صحابی اور مفسر قرآن کے طریقہ پر قرآن پاک کو سمجھنے والے ہیں اور یہ ہمارے لئے بہت بڑا اعزاز ہے الحمدللہ۔
اگر آج کسی غیرمقلد وکٹورین سے پوچھا جائے کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے تو کتنی ہوں تو وہ کہے کہ ایک ہو گی دوبارہ رجوع کرلو۔ اسلئے ہم اس فرقے کو جدید فرقہ کہتے ہیں اور ثابت بھی ہو رہا ہے کہ یہ  ماضی قریب کی پیداوار ہے صحابہ سے ان کا کچھ تعلق نہیں۔ اس زمانے میں یہ کہاں تھے؟
دعا ہے اللہ سے اللہ پاک سیدھا راستہ  دکھائے بھی اور اس  پر چلنے کی بھی توفیق دے آمین